
کرور، 29 جولائی (ہ س)۔ ریاست کے ڈائریکٹوریٹ آف اینٹی کرپشن اینڈ ویجیلنس (ڈی وی اے سی) نے بدھ کے روز تمل ناڈو میں دراوڑ منیترا کژگم (ڈی ایم کے) کے ایم ایل اے اور سابق وزیر سینتھل بالاجی کی رہائش گاہ سمیت چھ مقامات پر بیک وقت چھاپے مارے۔ یہ کارروائی کرور میں ان کے گھر، تمل ناڈو اسٹیٹ مارکیٹنگ کارپوریشن (ٹی اے ایس ایم اے سی) کے ڈسٹرکٹ منیجر کے دفتر اور اس سے منسلک دیگر احاطوں میں کی جا رہی ہے۔ کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی اس کارروائی نے ریاست کے سیاسی اور انتظامی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔
ڈی وی اے سی کی ٹیم نے صبح سے کرور کے رامیشور پٹی میں سینتھل بالاجی کی رہائش گاہ پر تلاشی کی کارروائی شروع کی۔ ابتدائی معلومات کے مطابق یہ کارروائی ٹی اے ایس ایم اے سی میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور بدعنوانی سے متعلق مقدمات کی تحقیقات کے سلسلے میں کی جا رہی ہے۔
سینتھل بالاجی کی رہائش گاہ کے علاوہ، نیرور کے قریب کویمبلی میں ڈی ایم کے کرور ایسٹ یونٹ کے سکریٹری بھاسکرن کے گھر، مورتیپالائم میں ان کے ساتھی سبرامنی کے گھر اور کودھائی نگر میں کرور شکتی میس آپریٹر اور ان کے قریبی ساتھی کارتی کے اپارٹمنٹ میں بھی بیک وقت تلاشی لی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی کرور انڈسٹریل ایریا میں واقع ٹی اے ایس ایم اے سی کے ڈسٹرکٹ منیجر آفس میں صبح تقریبا 8 بجے سے دستاویزات اور ریکارڈ کی مکمل جانچ پڑتال بھی جاری ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق ڈی وی اے سی کی ٹیم نے کرور کے علاوہ ایروڈ میں ٹی اے ایس ایم اے سی کے گودام پر بھی چھاپہ مارا ہے۔ تاہم اس کارروائی کے حوالے سے محکمہ کی جانب سے ابھی تک کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی کی بنیاد اور اس سے وابستہ حقائق سرچ آپریشن مکمل ہونے اور ضبط شدہ دستاویزات کی جانچ پڑتال کے بعد ہی سامنے آئیں گے۔
اس دوران ، سینتھل بالاجی ایک اور معاملے میں بھی تفتیشی ایجنسیوں کی نظر میں ہے۔ کرشناگیری ضلع کے اتھنگرائی اسمبلی حلقہ سے تملگا ویٹری کژگم (ٹی وی کے) کے ایم ایل اے الیاراجا نے چنئی پولیس کمشنر سے شکایت کی تھی کہ انہیں اسپیکر کے خلاف تحریک کی حمایت میں ووٹ ڈالنے کے لیے 35 کروڑ روپے کی پیشکش کی گئی تھی۔
اس شکایت کی بنیاد پر چنئی کے تھروولیکینی پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا، جس کے بعد کئی لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔ تفتیش کے دوران پولیس نے سینتھل بالاجی اور اس کے بھائی اشوک کمار کو پوچھ گچھ کے لیے سمن جاری کیا تھا۔ تاہم، ان دونوں نے عدالت سے مشروط پیشگی ضمانت حاصل کرلی تھی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی