
نئی دہلی، 29 جولائی (ہ س)۔ دہلی کی راوز ایونیو عدالت نے سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کو نیشنل ایلیجیبلٹی کم انٹرنس ٹیسٹ (این ای ای ٹی) پیپر لیک معاملہ میں چارج شیٹ سے متعلق تمام دستاویزات اور بیانات کی فہرست داخل کرنے کے لیے تین دن کا وقت دیا ہے۔ فاسٹ ٹریک کورٹ کی جج انو گروور بالیگا نے سی بی آئی کو یہ دستاویزات داخل کرنے کا حکم دیاہے۔ عدالت چارج شیٹ کی اگلی سماعت 3 اگست کو کرے گی۔
سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن نے آج سماعت کے دوران کہا کہ چارج شیٹ اور دستاویزات تقریبا 2,000 صفحات پر مشتمل ہیں۔ ان کی جانچ کی جا رہی ہے۔ اس لیے دستاویزات جمع کرانے میں وقت لگے گا۔ اس بار عدالت نے دستاویزات جمع کرانے کے لیے تین دن کا وقت دیاہے۔ سی بی آئی نے 13 ملزموں کے خلاف چارج شیٹ دائر کی ہے۔
ملزموں کی شناخت یش یادو، مانگیلال بیوال، دنیش بیوال، وکاس بیوال، شبھم خیرنار، دھننجے لوکھنڈے، پرہلاد کلکرنی، تیجس ہرشد کمار، ڈاکٹر منوج شیرورے، شیوراج رگھوناتھ موٹےگاونکر، منیشا واگھمارے، منیشا ماندھارے اور منیشا سنجے حولدار کے طور پر ہوئی ہے۔ یہ سب فی الحال عدالتی حراست میں ہیں۔ سی بی آئی نے ان کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 315 (5)، 318 (4)، 61 (2)، 238, 303, (2)، بدعنوانی کی روک تھام کے قانون کی دفعہ 13 (2) اور 13 (1) (اے) اور عوامی امتحان (غیر منصفانہ ذرائع کی روک تھام) قانون کی دفعہ 10، 3, 4, 5 اور 11 کے تحت ایف آئی آر درج کی تھی۔
این ای ای ٹی پیپر لیک معاملہ کی سماعت کے لیے قائم فاسٹ ٹریک عدالت میں سماعت پہلے دن 27 جولائی کو ملتوی کر دی گئی تھی۔ دہلی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے نے اس فاسٹ ٹریک عدالت کے قیام کا حکم دیا تھا۔ انہوں نے جسٹس انو گروور بالیگا کو اس عدالت میں مقرر کیا ہے۔ عدالت عوامی امتحانات (پبلک امتحانات میں غلط طور طریقوں کی روک تھام سے متعلق) ایکٹ کے تحت درج مقدمات سے نمٹے گی۔
این ای ای ٹی کا سوالیہ پیپر لیک ہونے کے الزامات کے بعد 3 مئی کو امتحان منسوخ کر دیا گیا تھا اور 21 جون کو دوبارہ امتحان منعقد کیا گیا تھا۔ مرکزی حکومت نے اس معاملے کی سی بی آئی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی