
نئی دہلی، 29 جولائی (ہ س)۔ مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) نے دہلی کی راوس ایونیو کورٹ میں قومی اہلیت اور داخلہ جاتی امتحانات (این ای ای ٹی) پیپر لیک معاملے میں 13 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ داخل کی ہے۔ نیٹ پیپر لیک معاملے کی سماعت کے لیے تشکیل دی گئی فاسٹ ٹریک عدالت کی جج انو گروور بلیگا اس کیس کی سماعت کریں گی۔
ملزمین میں یش یادو، مانگی لال بیوال، دنیش بیوال، وکاس بیوال، شبھم کھیرنار، دھننجے لوکھنڈے، پرہلاد کلکرنی، تیجس ہرشد کمار، ڈاکٹر منوج شرورے، شیوراج رگھوناتھ موٹیگاونکر، منیشا واگھمارے، منیشا مندھارے اور منیشا سنجے حولدار شامل ہیں۔ یہ سبھی اس وقت عدالتی حراست میں ہیں۔ سی بی آئی نے ان کے خلاف بھارتی نیائے سنہتا کی دفعہ 315(5)، 318(4)، 61(2)، 238، 303(2)، بدعنوانی کی روک تھام ایکٹ کی دفعہ 13(2) اور 13(1)(اے ) اور پبلک امتحانات (غلط طور طریقوں کی روک تھام) سے متعلق قانون کی دفعہ 10، دفعہ 3،4،5 اور 11کے تحت ایف آئی آر درج کی تھی۔
نیٹ پیپر لیک معاملے کی سماعت کے لیے قائم فاسٹ ٹریک عدالت نے اپنے پہلے دن یعنی 27 جولائی کو ملتوی کر دی تھی۔ دہلی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے نے اس فاسٹ ٹریک کورٹ کی تشکیل کا حکم دیا۔ انہوں نے جج انو گروور بلیگا کو عدالت میں مقرر کیا۔ یہ عدالت عوامی امتحانات (غلط طور طریقوں کی روک تھام) قانون کے تحت دائر مقدمات کی سماعت کرے گی۔
سوالیہ پرچہ لیک ہونے کے الزامات کے بعد، 3 مئی کو منعقد ہونے والے نیٹ امتحان کو منسوخ کر دیا گیا تھا اور 21 جون کو امتحانات کا دوبارہ انعقاد کیا گیا۔ مرکزی حکومت نے اس معاملے کی سی بی آئی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد