کشن گنج کے ہاسٹل میں نرسنگ طالبہ کی لاش لٹکی ہوئی ملی
کشن گنج، 29 جولائی (ہ س)۔ شہر کے وارڈ نمبر 1 میں بدھ کے روز ایک پرائیویٹ نرسنگ انسٹی ٹیوٹ کے ہاسٹل میں 23 سالہ نرسنگ طالبہ کی لاش لٹکی ہوئی ملی، جس سے علاقے میں سنسنی پھیل گئی۔ پولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے صدر اسپتال بھیج
کشن گنج کے ہاسٹل میں نرسنگ طالبہ کی لاش لٹکی ہوئی ملی


کشن گنج، 29 جولائی (ہ س)۔ شہر کے وارڈ نمبر 1 میں بدھ کے روز ایک پرائیویٹ نرسنگ انسٹی ٹیوٹ کے ہاسٹل میں 23 سالہ نرسنگ طالبہ کی لاش لٹکی ہوئی ملی، جس سے علاقے میں سنسنی پھیل گئی۔ پولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے صدر اسپتال بھیج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔متوفی تنجلی مغربی بنگال کے گنجریا کی رہنے والی تھی۔ وہ ریڈیئنٹ گروپ نرسنگ انسٹی ٹیوٹ کی طالبہ تھی اور نرسنگ کی تعلیم حاصل کرنے کے دوران ہاسٹل میں رہ رہی تھی۔

واقعہ کی اطلاع ملتے ہی اس کے گھر والے ہاسٹل پہنچے اور معاملے کو مشکوک قرار دیتے ہوئے خودکشی کے امکان کو مسترد کردیا۔ انہوں نے ریڈیئنٹ گروپ کے ملازم راہل کمار داس ( ساکن پٹکوئی کلاں ) پر سنگین الزامات لگائے اور معاملے کی غیر جانبدارانہ اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا۔متوفی کے منگیتر رجب نے بتایا کہ منگل کی رات تقریباً 10:30 بجے اس نے تنجلی سے فون پر بات کی تھی۔ ان کے مطابق تنجلی بہت خوش تھی کیونکہ اسے بدھ کے روز اپنا نرسنگ سرٹیفکیٹ ملنا تھا، اور وہ اسے لینے کے لیے ایک ساتھ رائے گنج جانے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تنجلی نے بھی رات ڈیڑھ بجے کے قریب واٹس ایپ پر مثبت اسٹیٹس پوسٹ کیا تھا اس لیے اس کی خودکشی کے امکان پر یقین نہیں کیا جا سکتا۔

متوفی کے دادا نے بھی واقعے کو مشکوک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اطلاع ملنے پر کئی گھنٹے تک ادارے کا کوئی ذمہ دار اہلکار ہاسٹل نہیں پہنچا۔ انہوں نے ہاسٹل کے سیکورٹی سسٹم پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ وہاں کوئی سی سی ٹی وی کیمرے یا سیکورٹی گارڈ نہیں ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی ہر پہلو سے تفتیش کی جا رہی ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ، فرانسک جانچ اور دیگر شواہد کی بنیاد پر مزید کارروائی کی جائے گی۔ اہل خانہ نے ملزمین کی جلد گرفتاری اور منصفانہ تحقیقات کے ذریعے انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan


 rajesh pande