
گوہاٹی، 29 جولائی (ہ س)۔ بالائی آسام کے چار اضلاع سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ انہی اضلاع میں سب سے زیادہ اموات ہوئی ہیں۔ ریاستی حکومت متاثرہ لوگوں کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے متاثرہ افراد کی مالی امداد کا اعلان کرنے کے ساتھ ہی مرنے والوں کے لواحقین کے لیے 9 لاکھ روپے کی مدد کا اعلان کیا ہے۔ دریں اثنا، شیو ساگر ضلع کے نازیرہ علاقے سے سات افراد ابھی تک لاپتہ ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ اگر لاپتہ افراد کا پتہ نہیں چلتا ہے تو حکومت انہیں فوری طور پر مردہ تصور کرے گی اور ان کے اہل خانہ کو مالی امداد فراہم کرے گی۔
سیلاب کا پانی کم ہو رہا ہے جس سے گھروں اور اسکولوں میں گھٹنوں تک کیچڑ بھر جانے سے لوگوں کے لیے ایک نئی پریشانی پیدا ہو رہی ہے۔ لوگ اپنے گھروں کو لوٹنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن صورتحال سنگین ہونے کے ناطے وہ محفوظ مقامات پر پناہ لینے کے لئے مجبور ہیں ۔ آسام اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (اے ایس ڈی ایم اے) کی طرف سے 28 جولائی کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، شیوساگر ضلع میں مزید سات لاشیں برآمد ہوئی ہیں، جس سے ریاست میں مرنے والوں کی کل تعداد 75 ہو گئی ہے۔ دھنسیری (نومالی گڑھ) ندی اب بھی خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہے۔ حکومت جنگی بنیادوں پر ہر ممکن راحت اور بچاو اقدامات کرنے میں مصروف ہے۔
فی الحال، سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں شیوساگر، گولاگھاٹ، چرائیدیو، جورہاٹ، نگاو¿ں شونیت پور، اور کامروپ (میٹرو) ہیں۔ ان اضلاع کے 21 ریونیو ڈویژنوں کے کل 622 گاو¿ں سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔ ریاست کی کل 332,639 آبادی اور 45,341.98 ہیکٹیئر زرعی اراضیپانی میں ڈوب گئی ہے۔ سیلاب سے متاثرہ لوگوں کے لیے کل 115 راحت کیمپ کام کر رہے ہیں، جن میں 81 راحت کیمپ اور 34 امدادی اشیاءتقسیم مراکز سینٹرز شامل ہیں۔ ریلیف کیمپوں میں 32,477 لوگ پناہ لے رہے ہیں، جب کہ 16,314 غیر کیمپ کے رہائشی امدادی تقسیم کے مراکز سے امداد حاصل کر رہے ہیں۔
شیو ساگر ضلع میں28 جولائی تک سیلابی پانی سے مکمل طور پر تباہ ہونے والے کچے گھروں کی کل تعداد 186 بتائی جاتی ہے۔ شیو ساگر ضلع میں ہی 2 پکے مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ جبکہ شیو ساگر ضلع میں جزوی طور پر تباہ ہونے والے کچے گھروں کی کل تعداد 560 ہے۔ شیو ساگر ضلع میں جزوی طور پر تباہ ہونے والے پکے مکانات کی کل تعداد 580 ہے۔ دیگر تباہ شدہ مکانات میں شیو ساگر ضلع میں 320 جھونپڑیاں اور دیگر مویشیوں کے شیڈوں کی کل تعداد 789 ہے۔
سیلاب کی راحت اور بچاو¿ کی کارروائیاں ایس ڈی آر ایف، آرمی/ نیم فوجی دستے، این ڈی آر ایف، ڈی ڈی آر ایف، فضائیہ، پولیس، فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز (ایف اینڈ ای ایس)، سرکل آفسز/مقامی انتظامیہ، سول ڈیفنس/تربیت یافتہ رضاکاروں اور فائر ڈپارٹمنٹ کے ذریعے انجام دی جا رہی ہیں۔ دریں اثنا، ریاستی حکومت نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں کل 125 طبی ٹیمیں تعینات کیں۔ 21 کشتیاں بھی امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔ کشتیوں کے ذریعے کل 02 افراد کو بچا کر محفوظ مقامات پر پہنچایا گیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد