
گوہاٹی، 29 جولائی (ہ س)۔ آسام کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر ہمانتا بسوا سرما نے کل رات فیس بک لائیو کے ذریعے سیلاب سے متاثرہ لوگوں کے لیے کئی اہم امدادی اقدامات کا اعلان کیا۔وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ سیلاب میں جان گنوانے والے ہر فرد کے لواحقین کو مجموعی طور پر نو لاکھ روپے کی مالی امداد فراہم کی جائے گی۔ اس میں ریاستی حکومت کی طرف سے چار لاکھ روپے اور چیف منسٹر ریلیف فنڈ سے پانچ لاکھ روپے شامل ہیں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اس امداد کے لیے پوسٹ مارٹم کی ضرورت نہیں ہوگی۔
ڈاکٹر سرما نے کہا کہ اب تک فلاحی افراد اور اداروں کی جانب سے چیف منسٹر ریلیف فنڈ میں 26 کروڑ 58 لاکھ روپے کے عطیات موصول ہو چکے ہیں۔سیلاب سے متاثرہ طلبا کو مارک شیٹ اور سرٹیفکیٹ مفت فراہم کیے جائیں گے۔ متاثرہ اسکولوں کو اسکول یونیفارم کی خریداری اور مفت نصابی کتب کی دوبارہ تقسیم کے لیے بھی معاوضہ ملے گا۔
وزیراعلیٰ نے طلبا کے لیے خصوصی مالی امداد کا بھی اعلان کیا۔ اعلی ثانوی طلبا کو 1,000روپے ، انڈر گریجویٹ طلبا کو 3,000روپے اور پوسٹ گریجویٹ طلبا کو 5,000 روپے ملیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جن خاندانوں کے گھر، تالاب، ہتھ کرگھے اور زرعی زمین کو سیلاب سے نقصان پہنچا ہے، انہیں بھی حکومت کی طرف سے مناسب معاوضہ دیا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ نے یہ بھی اعلان کیا کہ بالائی آسام میں سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو 15000 روپے کی فوری امداد دی جائے گی۔ یہ رقم تین سے چار دنوں میں براہ راست ان کے بینک کھاتوں میں منتقل کر دی جائے گی۔
اس کے علاوہ سیواساگر، چرائیدیو، جورہاٹ اور گولاگھاٹ اضلاع میں ارونودیہ یوجنا کے مستفیدین کو 1250 روپے کی جگہ 2500 روپے ملیں گے۔ یہ رقم ان کے کھاتوں میں 3 اگست کی بجائے یکم اگست کو جمع کرائی جائے گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد