
نئی دہلی، 28 جولائی (ہ س)۔ عام آدمی پارٹی ( اے اے پی ) کے کنوینر اور دہلی کے سابق وزیر اعلی اروند کیجریوال نے بہار میں احتجاج کرنے والے طلبا پر مبینہ اے کے -47 رائفل فائرنگ کے واقعہ کو لے کر مرکزی حکومت اور بہار حکومت پر سخت حملہ کیا۔
کیجریوال نے منگل کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھاکہ آخرحکومت کو کیا ہو گیا ہے؟ بہار میں طلبا پر اے کے -47 سے گولیا چلائی گئیں۔ کیا یہ طلبا دہشت گرد ہیں؟ حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لوک نائک جے پرکاش نارائن کی قیادت میں بہار کی دھرتی سے ہی نعرہ لگا تھا کہ ”سنہاسن خالی کرو کہ جنتا آتی ہے۔“ انہوں نے کہا کہ حکومت کو طلبا کے سوالوں کا جواب دینا چاہیے ۔
عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا ممبر سنجے سنگھ نے اس معاملے میں مرکزی حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی مبینہ واقعہ نہیں ہے، بلکہ ویڈیو میں طالب علموں پر اے کے -47 رائفلوں سے فائرنگ نظر آ رہی ہے۔ سنجے سنگھ نے مرکزی حکومت اور بہار کے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری سے سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا یہ طلبا دہشت گرد ہیں کہ ان پر اے کے 47 رائفل چلائی جا رہی ہے ؟ انہوں نے کہا کہ ملک کے دارالحکومت میں پہلے طلبا پر پیلٹ گن، آنسو گیس کے گولے داغے گئے اور لاٹھی چارج کیا گیا جس سے تقریباً 500 طلبا زخمی ہوئے۔ اب بہار میں طلبا کے خلاف اے کے 47 کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہکس طرح کی طرز حکمرانی ہے؟
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد