
نئی دہلی، 28 جولائی (ہ س). دہلی ہائی کورٹ نے ایک عرضی کو خارج کر دیا ہے جس میں مطالبہ کیاگیا تھا کہ عدالت کے حکم پر ہو رہی پولیس تفتیش کو دہلی پولیس کے ایڈیشنل ڈی سی پی (شمال مشرقی) سندیپ لامبا کی نگرانی سے ہٹا کر کسی اور کو سونپ دی جائے۔
سندیپ لامبا، اس وقت تنازعہ میں گھر گئے تھے ، جب جنتر منتر پر حالیہ احتجاج کے دوران ایک خاتون کو تھپڑ مارتے ہوئے ا ن کا ویڈیو وائرل ہوا تھا۔ جسٹس گریش کتھپالیا کی سربراہی والی بنچ نے عرضی کو خارج کرنے کا حکم دیا۔
سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ اگر کسی افسر نے غلطی کی ہے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہو گی، لیکن عدالت بغیر منصفانہ ٹرائل کے اسے کیسے قصوروار مان سکتی ہے اور اس سے کوئی کام چھین سکتی ہے۔ سماعت کے دوران جب درخواست گزار کی جانب سے پیش وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ لامبا نے ایک خاتون کو تھپڑ مارا ہے، تو وہ غیر جانبدار کیسے ہو سکتے ہیں ، جب کہ درخواست گزار خود پولیس کی زیادتی کا شکار ہے۔ عدالت نے تب کہاکہ پوری پولیس فورس ہی کٹہرے میں کھڑی ہے تو کیا انہیں ایف آئی آر درج کرنا بند کر دینا چاہیے؟
درخواست گزار زرنگار فاطمہ نے ہائی کورٹ میں پہلے ایک درخواست دائر کی تھی جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ انہیں 24-25 مارچ 2025 کی درمیانی شب جعفرآباد پولیس تھانے میں غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا تھا۔ ہائی کورٹ کے حکم کے بعد پولیس کو تفتیش کا حکم دیا گیا تھا۔ اس کی تحقیقات سندیپ لامبا کی نگرانی میں کی جا رہی ہے۔
درخواست گزار نے کہا تھا کہ جنتر منتر پر احتجاج کے دوران سندیپ لامبا کاایک خاتون کو تھپڑ مارنے کا ویڈیو وائرل ہو ا تھا ۔ ایسے میں سندیپ لامبا کی نگرانی میں غیر جانبدارانہ تحقیقات ممکن نہیں ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد