کاویری آبی تنازع: کمیٹی کی تمل ناڈو کو 15 دن تک روزانہ 3,500 کیوسک پانی چھوڑنے کی سفارش، کرناٹک کا اعتراض
بنگلورو/نئی دہلی، 28 جولائی (ہ س)۔ دریائے کاویری کے پانی کی تقسیم کو لے کر کرناٹک اور تمل ناڈو کے درمیان ایک بار پھر تنازع شدت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ کاویری واٹر ریگولیشن کمیٹی (سی ڈبلیو آر سی) نے سفارش کی ہے کہ تمل ناڈو کے لیے آئندہ 15 دن
کاویری آبی تنازع: کمیٹی کی تمل ناڈو کو 15 دن تک روزانہ 3,500 کیوسک پانی چھوڑنے کی سفارش، کرناٹک کا اعتراض


بنگلورو/نئی دہلی، 28 جولائی (ہ س)۔

دریائے کاویری کے پانی کی تقسیم کو لے کر کرناٹک اور تمل ناڈو کے درمیان ایک بار پھر تنازع شدت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ کاویری واٹر ریگولیشن کمیٹی (سی ڈبلیو آر سی) نے سفارش کی ہے کہ تمل ناڈو کے لیے آئندہ 15 دن تک روزانہ 3,500 کیوسک پانی چھوڑا جائے۔ اس مدت کے دوران تقریباً 4 ٹی ایم سی پانی فراہم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

نئی دہلی میں ویڈیو کانفرنس کے ذریعے منعقدہ کمیٹی کے اجلاس میں کرناٹک، تمل ناڈو، کیرالہ اور پڈوچیری کے نمائندوں نے شرکت کی۔ مختلف ریاستوں میں پانی کی دستیابی اور موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد کمیٹی نے یہ سفارش جاری کی۔

تاہم کرناٹک حکومت نے اس سفارش پر سخت اعتراض کیا ہے۔ ریاست کے وزیر آبی وسائل رام لنگا ریڈی نے کہا کہ کرناٹک خود شدید آبی بحران کا سامنا کر رہا ہے اور اس سال معمول سے کم بارش ہونے کے باعث ریاست کے آبی ذخائر میں پانی کی سطح اطمینان بخش نہیں ہے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں ریاست کے لیے پینے کے پانی کی فراہمی اولین ترجیح ہے۔انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر وزیر اعلیٰ سے مشاورت کے بعد آئندہ حکمت عملی طے کی جائے گی اور ضرورت پڑنے پر کرناٹک حکومت کاویری واٹر مینجمنٹ اتھارٹی(سی ڈبلیو ایم اے) کے سامنے اپنا مؤقف بھرپور انداز میں پیش کرے گی۔ادھر کرناٹک اسمبلی میں قائدِ حزب اختلاف آر اشوک نے بھی اس معاملے پر ریاستی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ پانی کی قلت اور خشک سالی جیسے حالات کے باوجود حکومت ریاست کے مفادات کا مؤثر دفاع کرنے میں ناکام رہی ہے۔

آر اشوک نے وزیر اعلیٰ اور وزیر آبی وسائل سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر متعلقہ افسران اور قانونی ماہرین کا اجلاس طلب کریں اور کمیٹی کی سفارش کے خلاف کاویری واٹر مینجمنٹ اتھارٹی میں اپیل دائر کر کے دستیاب حقائق اور اعداد و شمار کی بنیاد پر کرناٹک کا مؤقف مضبوطی سے پیش کریں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ریاست کے آبی ذخائر اور پانی کی دستیابی سے متعلق حقیقی صورت حال اتھارٹی کے سامنے مؤثر انداز میں رکھی جائے اور کسی بھی قیمت پر کرناٹک کے مفادات پر سمجھوتہ نہ کیا جائے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande