حکومت کسی ملازم سے تقریباً تین دہائیوں تک خدمات حاصل کرنے کے بعد اسے عارضی ملازم قرار نہیں دے سکتی : عدالت
جموں, 28 جولائی (ہ س): جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں کہا ہے کہ حکومت کسی ملازم سے تقریباً تین دہائیوں تک خدمات حاصل کرنے کے باوجود اسے مسلسل کیژول ورکر قرار نہیں دے سکتی۔ عدالت نے تاہم یہ بھی واضح کیا کہ طویل عرصہ تک ملازمت ک
Jk Highcurt


جموں, 28 جولائی (ہ س): جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں کہا ہے کہ حکومت کسی ملازم سے تقریباً تین دہائیوں تک خدمات حاصل کرنے کے باوجود اسے مسلسل کیژول ورکر قرار نہیں دے سکتی۔ عدالت نے تاہم یہ بھی واضح کیا کہ طویل عرصہ تک ملازمت کرنا ازخود کسی ملازم کو ایسے اعلیٰ عہدے پر مستقلی کا حق نہیں دیتا جو براہِ راست بھرتی کے لیے مختص ہو۔

یہ فیصلہ جسٹس سندھو شرما اور جسٹس راجیش سیکھری پر مشتمل ڈویژن بنچ نے سنایا، جس نے جموں و کشمیر حکومت کی جانب سے سنٹرل ایڈمنسٹریٹو ٹریبونل (سی اے ٹی) جموں بنچ کے فیصلے کے خلاف دائر دو عرضیوں کو جزوی طور پر منظور کر لیا۔

معاملہ محکمہ ریشم پروری (سیریکلچر) کے ملازم آفتاب حسین سے متعلق تھا، جو 1998 سے محکمہ میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

سی اے ٹی نے انہیں ڈرائیور کے عہدے پر مستقل کرنے کی ہدایت دی تھی، تاہم ہائی کورٹ نے اس حکم میں ترمیم کرتے ہوئے قرار دیا کہ آفتاب حسین کو ڈرائیور کے بجائے انٹری لیول گریڈ میں آرڈرلی کے عہدے پر اس تاریخ سے مستقل کیا جائے جب انہوں نے سات سال کی مسلسل ملازمت مکمل کی تھی۔

عدالت نے حکومت کو ہدایت دی کہ آفتاب حسین کی مستقلی کا عمل فوری طور پر مکمل کیا جائے اور انہیں مستقلی کی مؤثر تاریخ سے تمام مالی فوائد، واجبات، بقایاجات اور دیگر متعلقہ مراعات بھی ادا کی جائیں۔فیصلے میں عدالت نے کہا کہ حکومت کی جانب سے کسی ملازم سے برسوں تک خدمات لینے کے باوجود اسے عارضی یا کیژول ورکر کے طور پر برقرار رکھنا مناسب نہیں، تاہم مستقلی کے عمل میں بھرتی کے نافذ قوانین اور قواعد کا بھی مکمل خیال رکھا جانا ضروری ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande