
نئی دہلی، 25 جولائی (ہ س): دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر دیویندر یادو نے کہا ہے کہ طلبہ کی تحریک اور اپوزیشن کے اتحاد کے دباؤ کے باعث مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کو بالآخر استعفیٰ دینا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ 20 جولائی کو حکومت کے احکامات پر پولیس کی جانب سے طلبہ پر مبینہ تشدد کے بعد کانگریس رہنما راہل گاندھی نے طلبہ کی تحریک کی حمایت میں پارلیمنٹ اور سڑک دونوں پر احتجاج کیا اور وزیرِ اعظم کی رہائش گاہ کے باہر دھرنا دیا، جس کے بعد حکومت کو اپوزیشن کے متحدہ مؤقف کے سامنے جھکنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس صدر ملیکارجن کھرگے، سونیا گاندھی، پرینکا گاندھی اور اپوزیشن کے اتحاد نے مل کر طلبہ کی آواز کو مضبوط انداز میں بلند کیا۔
دیویندر یادو نے ہفتہ کے روز جاری ایک بیان میں کہا کہ کانگریس ہمیشہ بھارت میں آئین کے تحفظ اور نوجوانوں کی آواز بلند کرنے کے لیے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر مضبوطی سے کھڑی رہی ہے، کھڑی ہے اور آئندہ بھی کھڑی رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے رہنما راہل گاندھی نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے دورِ حکومت میں 152 پرچہ لیک ہونے کے واقعات اور مسلسل تین برس تک نیٹ امتحان کے پرچے لیک ہونے کے باعث خودکشی کرنے والے طلبہ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا اور ان کے حقوق کی جدوجہد لڑنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے 17 جون کو کوٹا کے دسہرہ گراؤنڈ میں پرچہ لیک کے خلاف تعلیمی نظام میں اصلاحات، وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ اور طلبہ کا ساتھ دینے کا وعدہ کیا۔ اسی طرح 17 جولائی کو دہرادون میں ہزاروں طلبہ کی جدوجہد کی کھل کر حمایت کرتے ہوئے ان سے خطاب کیا اور کہا کہ کانگریس پارٹی ان کے ساتھ کھڑی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد