
ایم پی میں چار فاسٹ ٹریک کورٹس بنیں گے، تین ماہ میں امتحانات سے متعلق دیگر معاملات کا تصفیہ ہوگا: موہن یادو
۔ وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے اسمبلی احاطے میں میڈیا سے بات چیت کی
بھوپال، 25 جولائی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا ہے کہ وقت کا تقاضا ہے کہ نوجوانوں سے متعلق عدالتی فیصلے تیز رفتاری سے ہوں۔ اس کے لیے مدھیہ پردیش میں چار فاسٹ ٹریک کورٹس (بھوپال، اندور، جبل پور اور گوالیار میں) قائم کیے جائیں گے۔ پیپر لیک اور امتحانات سمیت دیگر معاملات کا فاسٹ ٹریک کورٹس میں صرف تین ماہ میں تصفیہ کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے ہفتے کے روز مدھیہ پردیش اسمبلی میں واقع سینٹرل ہال میں میڈیا نمائندوں سے بات چیت کے دوران یہ معلومات دی۔ انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش حکومت اساتذہ اور طلبہ طبقے کی بہبود سے متعلق تمام امور پر انتہائی سنجیدہ اور حساس ہے۔ تعلیم کے شعبے میں اصلاحات اور طلبہ کے مفاد میں مسلسل اہم فیصلے لیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے ملک کے عوام کے مفاد میں جب بھی کوئی فیصلہ لیا جاتا ہے، مدھیہ پردیش اسے نافذ کرنے اور فیصلے کے مطابق پالیسی سازی کرنے والی پہلی ریاست ہوتی ہے۔
وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ وزیراعظم مودی کے دل میں طلبہ کی بہبود اور ان سے متعلق تمام امور کے حوالے سے بے حد مثبت جذبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیسے ہی نیٹ پیپر لیک کی خبر سامنے آئی، اس کی تحقیقات کے لیے وزیراعظم مودی نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی۔ مقدمہ درج ہوا اور ملک بھر میں تیز رفتاری سے ملزمان کی گرفتاری بھی کی گئی، پھر دوبارہ نیٹ امتحان کرایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کی پوری ہمدردی طلبہ کے ساتھ ہے۔ ہم ہر حال میں طلبہ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ مستقبل میں نیٹ امتحانات بہتر اور شفاف طریقے سے منعقد ہوں، اس کے لیے اسٹینڈرڈ آف پروٹوکولز (ایس او پی) تیار کر کے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ مدھیہ پردیش وہ ریاست ہے جہاں قومی تعلیمی پالیسی-2020 ملک میں سب سے پہلے نافذ کی گئی۔ گزشتہ ڈھائی سال کے دورِ حکومت میں ریاستی حکومت نے تین نئی سرکاری یونیورسٹیز شروع کی ہیں۔ ریاست میں ترقیاتی سرگرمیوں کو تیز کرنے کے ساتھ ساتھ نوجوانوں اور طلبہ کی بہبود کی فکر کر کے ان کے مفاد میں فیصلے لینا بھی ہمارا فرض ہے۔
طلبہ کے لیے کئی اہم فیصلے ہماری حکومت لے چکی ہے اور یہ آگے بھی مسلسل جاری رہیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم مودی کے دورِ حکومت میں میڈیکل کالجوں کی تعداد دوگنی سے زیادہ ہو چکی ہے۔ پورے ملک میں پہلے صرف 641 یونیورسٹیز تھیں، آج ان کی تعداد بڑھ کر 1400 سے زیادہ ہو گئی ہے۔ میڈیکل ایجوکیشن کی نشستیں بھی 50 ہزار سے بڑھ کر 1 لاکھ سے زیادہ ہو چکی ہیں۔
قابلِ ذکر ہے کہ پیپر لیک اور امتحانات میں بدعنوانی سے متعلق معاملات کی جلد سماعت کے لیے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے جمعہ کے روز بھوپال، اندور، جبل پور اور گوالیار میں خصوصی فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (بی این ایس ایس)، 2023 کے تحت قائم کردہ یہ عدالتیں امتحانات سے متعلق مقدمات کی فوری سماعت کر کے مجرموں کو سزا دلائیں گی۔ اس کے ساتھ ہی، ریاستی حکومت کے محکمۂ قانون کو اس نئے نظام کو پوری ریاست میں فوری طور پر نافذ کرنے اور ضروری بنیادی ڈھانچے کے انتظامات یقینی بنانے کی سخت ہدایات دی گئی ہیں۔
ان خصوصی عدالتوں کے دائرۂ اختیار میں بنیادی طور پر پبلک ایگزامینیشن (پریوینشن آف ان فیئر مینز) ایکٹ، 2024 اور بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس)، 2023 کے تحت درج امتحان میں بے ضابطگیوں کے معاملات آئیں گے۔ ریاستی یا مرکزی حکومت کی مجاز تحقیقاتی ایجنسیوں کے ذریعہ درج اور جانچے جا رہے تمام امتحانات سے متعلق جرائم اب براہِ راست انہی عدالتوں کے دائرے میں ہوں گے۔ طریقہ کار کی تاخیر کو ختم کرنے کے لیے ہائی کورٹ نے ان عدالتوں کو معاملات کی براہِ راست سماعت کرنے اور ابتدائی عدالتی کارروائی مکمل کرنے کے لیے ’جوڈیشل مجسٹریٹ فرسٹ کلاس‘ کے اختیارات بھی تفویض کر دیے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن