مغربی بنگال اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹ پیش، ریاست پر 8 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کا قرض
۔وزیر خزانہ نے کہا کہ پچھلی حکومتوں نے کبھی رپورٹ پیش نہیں کی کولکاتا، 25 جولائی (ہ س)۔ مغربی بنگال کے وزیر خزانہ سوپن داس گپتا نے ہفتہ کو ریاستی اسمبلی میں کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) کی رپورٹ پیش کی۔ ایوان سے خطاب کرتے ہوئے، وزیر خزانہ ن
Wb-assembly-fin-min-cag-report


۔وزیر خزانہ نے کہا کہ پچھلی حکومتوں نے کبھی رپورٹ پیش نہیں کی

کولکاتا، 25 جولائی (ہ س)۔ مغربی بنگال کے وزیر خزانہ سوپن داس گپتا نے ہفتہ کو ریاستی اسمبلی میں کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) کی رپورٹ پیش کی۔ ایوان سے خطاب کرتے ہوئے، وزیر خزانہ نے کہا کہ پچھلے کچھ برسوں سے نامعلوم وجوہات کی بنا پر پچھلی حکومت (ممتا بنرجی کی) نے ایوان میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش نہیں کیں، جو کہ ایک سنگین ”آئینی کوتاہی“ تھی۔

ایوان میں رپورٹ پیش کرتے ہوئے، انہوں نے کہا،”ماضی میں ہونے والی اس آئینی غفلت کو ذہن میں رکھتے ہوئے، ہم آج ایوان میں سی اے جی رپورٹ کی 28 جلدیں رکھ رہے ہیں۔“

ریاست کے 8 لاکھ کروڑ روپے کے قرض پر سوال اٹھے

وزیر خزانہ داس گپتا نے قانون ساز اسمبلی کے اراکین پر زور دیا کہ وہ ان رپورٹس کا گہرائی سے مطالعہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ ان دستاویزات کے تجزیہ سے پتہ چل جائے گا کہ آخر کس طرح ریاست کے اوپر 8 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کے قرض کا بھاری بوجھ چڑھ گیا۔انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ حکومت کا یہ اخلاقی اور آئینی فرض ہے کہ وہ حکومت کی ماضی کی غلطیوں اور مالی بے ضابطگیوں کو شفاف طریقے سے عوام کے سامنے پیش کرے۔

خصوصی اجلاس بلانے کا ارادہ

حکومت مستقبل قریب میں قانون ساز اسمبلی کا ایک خصوصی اجلاس بلانے پر غور کر رہی ہے جس میں سی اے جی کی رپورٹوں کے مختلف پہلوو¿ں پر تفصیل سے بحث کی جائے گی، جس سے ریاست کے مالی معاملات کے ہر پہلو پر جامع بحث کی جائے گی۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ قانون ساز اسمبلی کا اجلاس کب بلایا جائے گا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande