
کولکاتا، 25 جولائی (ہ س)۔ مغربی بنگال حکومت نے ریاست میں اینٹی اسنیک وینم (اے ایس وی) کی تیاری کے لیے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ محکمہ صحت نے ریاست کے اندر ہی اینٹی اسنیک وینم کی تیاری کے لیے اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (ایس او پی) تیار کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں صحت بھون میں پہلی اعلیٰ سطحی میٹنگ بھی منعقد کی جا چکی ہے۔
وزیر صحت شردوت مکھرجی نے بتایا کہ آزادی کے بعد پہلی بار کسی حکومت نے مغربی بنگال کو اینٹی اسنیک وینم کے معاملے میں خود کفیل بنانے کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں پائے جانے والے زہریلے سانپوں، خصوصاً رسل وائپر (چندر بوڑا) سمیت دیگر سانپوں کے زہر کی حیاتیاتی و کیمیائی ساخت، خامروں (اینزائم) کی سرگرمی اور زہریلا پن جنوبی بھارت کے سانپوں سے مختلف ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے جنوبی بھارت میں تیار کیا جانے والا اینٹی اسنیک وینم کئی معاملات میں مطلوبہ اثر نہیں دکھا پاتا۔
انہوں نے کہا کہ مغربی بنگال کی جغرافیائی اور حیاتیاتی خصوصیات کے مطابق اینٹی اسنیک وینم تیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس وقت ریاست کو اینٹی اسنیک وینم کی فراہمی کے لیے تلنگانہ اور تمل ناڈو جیسے ریاستوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ کئی برسوں سے ریاست میں اس کی پیداوار بند ہونے کے باعث بروقت دستیابی اور سپلائی کے مسائل بھی درپیش رہتے ہیں۔
اس دوران اسمبلی میں توجہ دلاو¿ تحریک پر بحث کے دوران جنوبی 24 پرگنہ کے بھانگڑ سے آل انڈیا سیکولر فرنٹ (اے آئی ایس ایف) کے رکن اسمبلی نوشاد صدیقی نے بھی یہ معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں سانپ کے کاٹنے سے ہونے والی مجموعی اموات میں تقریباً 19.7 فیصد صرف مغربی بنگال میں ہوتی ہیں۔ قومی صحت پروفائل رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ سال 2025 میں ملک بھر میں 55 ہزار سے زیادہ افراد سانپ کے کاٹنے کا شکار ہوئے۔نوشاد صدیقی نے تجویز پیش کی کہ ماضی میں اینٹی اسنیک وینم تیار کرنے والی بنگال کیمیکل کو دوبارہ یہ ذمہ داری سونپی جا سکتی ہے، تاکہ ریاست اس شعبے میں خود کفیل بن سکے۔محکمہ صحت کا ماننا ہے کہ اگر مغربی بنگال کے مقامی زہریلے سانپوں کے زہر کے مطابق اینٹی اسنیک وینم کی تیاری شروع ہو جاتی ہے تو مریضوں کا علاج زیادہ مو¿ثر ہوگا، اور سانپ کے کاٹنے سے ہونے والی اموات میں بھی نمایاں کمی لائی جا سکے گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan