
کولکاتا، 25 جولائی (ہ س)۔
کولکاتا پولیس نے جمعہ کو مغربی بنگال کے دھرمتلہ میں ڈورینا کراسنگ پر یونائیٹڈ کاکروچ مارچ کے بینر تلے منعقدہ احتجاج کے دوران ہونے والے تشدد کے سلسلے میں کل سات ایف آئی آر درج کی ہیں۔ ان میں سے چھ ایف آئی آرز میڈیا اہلکاروں کی شکایات کی بنیاد پر درج کی گئیں اور ایک از خود درج کی گئی۔ وزیر اعلی شبھیندو ادھیکاری نے ہفتہ کو اسمبلی میں پولیس کو بریفنگ دیتے ہوئے میڈیا اہلکاروں پر حملے کی سخت مذمت کی اور کہا کہ اب تک 70 شرپسندوں کی شناخت ہو چکی ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات میں ایک مخصوص کمیونٹی کے بدنام زمانہ مجرموں کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ انہوں نے اسمبلی میں ایسے چار ملزموں کا نام بھی لیا۔ وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ تمام ملزموں پر حال ہی میں اسمبلی کی طرف سے منظور کیے گئے پبلک سیفٹی ایکٹ کی سنگین دفعات کے تحت فرد جرم عائد کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کسی بھی قسم کی ہنگامہ آرائی یا تشدد کو کسی قیمت پر برداشت نہیں کرے گی اور مجرموں کو ایسی سزا ملے گی جو آنے والی نسلوں تک یاد رکھی جائے گی۔
وزیر اعلیٰ نے الزام لگایا کہ جب مظاہرین پولیس کو اکسانے میں ناکام رہے تو انہوں نے منظم طریقے سے میڈیا اہلکاروں کو نشانہ بنایا۔ حملے میں میڈیا کے چھ اہلکار شدید زخمی ہوئے۔ سبھی کا سرکاری اسپتالوں میں علاج کیا گیا ہے، اور ان کی شکایت کی بنیاد پر ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔
میڈیا اہلکاروں پر حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا کہ اسمبلی کے دوسرے اجلاس کے آغاز سے قبل بی جے پی کے ممبران اسمبلی ڈاکٹر بھیم راو¿ امبیڈکر کے مجسمے کے سامنے سیاہ پٹیاں باندھ کر اس واقعہ کے خلاف احتجاج کریں گے۔
پولیس کی طرف سے درج کی گئی ایک سوموٹو ایف آئی آر کے مطابق، مختلف سیاسی اور طلباء نوجوانوں کی تنظیموں کی قیادت میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد جمعہ کو دوپہر دو بجے کے قریب ڈورینا کراسنگ پر جمع ہوئی۔ الزام ہے کہ یہ اجتماع پولیس کی اجازت کے بغیر منعقد کیا گیا تھا۔ ایف آئی آر میں اے آئی ڈی ایس او،اے آئی ڈی وائی او ، سی پی آئی ( ایم ایل)، ڈی وائی ایف آئی ،اے آئی ایس اے، پی ڈی ایس ایف، اے ایف ایس اے، ڈی ایس ایف،آئی ایس یو،اور اے پی ڈی آر سمیت متعدد تنظیموں کا ذکر ہے۔
پولیس کا الزام ہے کہ احتجاج کے دوران لاو¿ڈ اسپیکر کے ذریعے اشتعال انگیز تقریریں کی گئیں، جس سے حامیوں کو پوری ڈورینا کراسنگ پر قبضہ کرنے کے لیے اکسایا گیا۔ پولیس نے اجتماع کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے علاقے کو خالی کرنے اور امن برقرار رکھنے کی بار بار اپیل کی لیکن مظاہرین نے اس پر عمل نہیں کیا۔
ہیر اسٹریٹ پولیس اسٹیشن میں تعزیرات ہند کی مختلف دفعات کے تحت نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش جاری ہے اور دیگر ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے کارروائی کی جا رہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ