
سیوان، 25 جولائی (ہ س)۔ سیوان میں طلباء کی تحریک نے ہفتہ کے روز اچانک پرتشدد رخ اختیار کر لیا۔گاندھی میدان میں جاری احتجاج اچانک قابو سے باہر ہو گیا اور مشتعل طلباء نے پولیس پر اینٹوں اور پتھروں سے حملہ کرنا شروع کر دیا۔ صورتحال بگڑتے ہی پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور پھر بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے کئی راؤنڈ فائر کیے۔ پورے علاقے میں افراتفری اور خوف و ہراس پھیل گیا۔صورتحال کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے پولیس سپرنٹنڈنٹ پورن کمار جھا ذاتی طور پر جائے وقوعہ پر پہنچے اور مظاہرین کو پیچھے ہٹانے کی کوشش کی۔ اس دوران مشتعل ہجوم نے دوبارہ پولیس پر پتھراؤ شروع کردیا جس سے پولیس سپرنٹنڈنٹ پورن کمار جھا اور کئی دیگر پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔
لاٹھی چارج کے بعد بھی مظاہرین پرسکون نہیں ہوئے۔ وہ گاندھی میدان سے نکل کر جے پی چوک پہنچے، جہاں ایک بار پھر پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپ ہوئی۔ پورے علاقے میں مسلسل اینٹوں اور پتھروں کی بارش سے لوگوں میں خوف وہراس پھیل گیا۔ دکانداروں نے عجلت میں اپنی دکانیں بند کر دیں ۔ہجوم پر قابو پانے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کے کئی راؤنڈ فائر کیے لیکن پتھراؤ کا سلسلہ کافی دیر تک جاری رہا۔ پرتشدد جھڑپ میں تقریباً نصف درجن پولیس اہلکار اور نصف درجن احتجاجی طلباء زخمی ہوئے۔زخمیوں کو فوری طور پر صدر اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ زخمیوں میں سے کئی کے سر، ہاتھ اور جسم کے دیگر حصوں پر چوٹیں آئی ہیں۔کافی کوشش کے بعد پولیس نے صورتحال پر جزوی کنٹرول حاصل کر لیا۔ گاندھی میدان سے جے پی چوک تک بڑی تعداد میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کو تعینات کیا گیا ہے۔ پورے علاقے میں کشیدگی کا ماحول ہے۔انتظامیہ نے لوگوں سے افواہوں کو نظر انداز کرنے اور امن برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تشدد، پتھراؤ اور سرکاری کام میں رکاوٹ ڈالنے میں ملوث شرپسندوں کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد کی بنیاد پر بدمعاشوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan