بھگوان شری کرشن پر متنازع بیان: پانی پت عدالت نے اتر پردیش کے مولانا جرجیس انصاری کو نوٹس جاری کیا
پانی پت، 25 جولائی (ہ س)۔ بھگوان شری کرشن کے بارے میں مبینہ طور پر قابلِ اعتراض بیان دینے کے معاملے میں پانی پت کی عدالت نے اتر پردیش کے ضلع اٹاوہ کے رہائشی مولانا جرجیس انصاری کو نوٹس جاری کیا ہے۔ عدالت نے مسلم لیگل ایڈ ٹرسٹ انڈیا کی جانب سے دائر
بھگوان شری کرشن پر متنازع بیان: پانی پت عدالت نے اتر پردیش کے مولانا جرجیس انصاری کو نوٹس جاری کیا


پانی پت، 25 جولائی (ہ س)۔ بھگوان شری کرشن کے بارے میں مبینہ طور پر قابلِ اعتراض بیان دینے کے معاملے میں پانی پت کی عدالت نے اتر پردیش کے ضلع اٹاوہ کے رہائشی مولانا جرجیس انصاری کو نوٹس جاری کیا ہے۔ عدالت نے مسلم لیگل ایڈ ٹرسٹ انڈیا کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے مولانا کو 12 اگست 2026 کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

مسلم لیگل ایڈ ٹرسٹ انڈیا کے چیئرمین مومن ملک نے جمعرات کو بتایا کہ مولانا جرجیس انصاری کے بیان سے نہ صرف ہندو برادری کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے بلکہ مسلم سماج کی شبیہ بھی متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ متنازع ویڈیو 23 جون کو جھارکھنڈ میں کی گئی ایک تقریر کی ہے۔ ان کے مطابق، ’چترویدی‘ لقب استعمال کرنے والے مولانا جرجیس انصاری نے شریمد بھاگوت گیتا کے ایک شلوک کا حوالہ دیتے ہوئے یہ دعویٰ کیا تھا کہ بھگوان شری کرشن مذہب کے اعتبار سے مسلمان تھے اور دن میں پانچ وقت کی نماز ادا کرتے تھے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اسلامی کتاب کا مطالعہ کریں تو وہ اسلام سے محبت کرنے لگیں گے۔

اس بیان کے بعد تنازع کھڑا ہو گیا تھا۔مومن ملک کے مطابق، مولانا جرجیس انصاری کو پہلے 24 گھنٹے کے اندر عوامی طور پر معافی مانگنے اور اپنا بیان واپس لینے کی تنبیہ کی گئی تھی، لیکن مقررہ مدت میں ایسا نہ کرنے کے بعد قانونی کارروائی شروع کی گئی۔ان کے مطابق، پانی پت کی عدالت نے مولانا جرجیس انصاری کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تمام متعلقہ حقائق کے ساتھ 12 اگست 2026 کو عدالت میں حاضر ہونے کی ہدایت دی ہے۔ اس مقدمے کی آئندہ سماعت بھی اسی روز ہوگی۔واضح رہے کہ یہ معاملہ فی الحال عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔ درخواست میں عائد کیے گئے الزامات پر حتمی فیصلہ عدالت میں مکمل سماعت کے بعد ہی کیا جائے گا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande