یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ میں اتر پردیش کا ایک اور تاریخی مقام شامل، بودھ مت سے وابستہ سارناتھ کو ملا عالمی ورثے کا درجہ
لکھنؤ، 25 جولائی (ہ س): تقریباً 28 برس کے طویل انتظار کے بعد مہاتما بدھ کی پہلی وعظ گاہ سارناتھ کو یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثہ کی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی سارناتھ بھارت کا 45واں اور اتر پردیش کا چوتھا عالمی ثقافتی ورثہ کا مقام ب
یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ میں اتر پردیش کا ایک اور تاریخی مقام شامل، بودھ مت سے وابستہ سارناتھ کو ملا عالمی ورثے کا درجہ


لکھنؤ، 25 جولائی (ہ س): تقریباً 28 برس کے طویل انتظار کے بعد مہاتما بدھ کی پہلی وعظ گاہ سارناتھ کو یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثہ کی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی سارناتھ بھارت کا 45واں اور اتر پردیش کا چوتھا عالمی ثقافتی ورثہ کا مقام بن گیا ہے۔ ریاست کے وزیرِ سیاحت و ثقافت جے ویر سنگھ نے اسے اتر پردیش کی ثقافتی وراثت کے لیے ایک تاریخی کامیابی قرار دیا ہے۔

یہ تاریخی اعلان ہفتہ کے روز جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں منعقدہ یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثہ کمیٹی کے 48ویں اجلاس میں کیا گیا۔ اس کامیابی کے بعد بدھ مت کے مقدس ترین مقامات میں شمار ہونے والے سارناتھ کو عالمی سطح پر ایک نئی شناخت حاصل ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اتر پردیش کے بدھ سرکٹ کو بین الاقوامی سیاحت اور ثقافتی ورثے کے نقشے پر مزید مضبوط مقام حاصل ہوگا۔

سارناتھ کو 3 جولائی 1998 کو یونیسکو کی عارضی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔ تقریباً 28 سال بعد ملنے والی یہ منظوری اتر پردیش کے لیے بھی خاص اہمیت رکھتی ہے۔ اس سے پہلے ریاست کے صرف تین عالمی ثقافتی ورثہ مقامات — تاج محل، آگرہ قلعہ اور فتح پور سیکری — ہی اس فہرست میں شامل تھے۔ سارناتھ کی شمولیت سے اتر پردیش کی عالمی ورثے کی شناخت اب پوروانچل خطے تک بھی پھیل گئی ہے، جو ریاست کی شاندار بدھ مت وراثت کی عالمی سطح پر توثیق ہے۔

یونیسکو کی جانب سے تسلیم شدہ اس عالمی ثقافتی ورثہ مقام میں چوکھنڈی اسٹوپ اور سارناتھ کے آثارِ قدیمہ کے باقیات شامل ہیں۔ یہ دونوں مقامات ایک دوسرے سے تقریباً 626 میٹر کے فاصلے پر واقع ہیں۔ چوکھنڈی اسٹوپ بھگوان بدھ اور ان کے پہلے پانچ شاگردوں کی ملاقات کی یادگار ہے، جبکہ آثارِ قدیمہ کے احاطے میں دھامیک اسٹوپ، دھرم راجیکا اسٹوپ، قدیم وہاروں (خانقاہوں) کے آثار اور اشوک ستون جیسے اہم تاریخی آثار شامل ہیں۔

وزیر جے ویر سنگھ نے کہا، 28 برس کے انتظار کے بعد سارناتھ کو یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کا درجہ ملنا ایک تاریخی کامیابی ہے۔ اس سے اتر پردیش کے بدھ سرکٹ کو عالمی سطح پر نئی شناخت اور فروغ حاصل ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی ریاست کا امن، روحانیت اور ثقافتی ہم آہنگی کا پیغام دنیا کے وسیع تر سماج تک پہنچے گا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande