راہل گاندھی نے زخمی طالبات کے ساتھ پریس کانفرنس کی، وزیراعظم سے معافی مانگنے کا مطالبہ
نئی دہلی، 25 جولائی (ہ س)۔ لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے ہفتہ کو ایک بار پھر احتجاج کرنے والے طلبہ کے ساتھ پریس کانفرنس کی۔ اس موقع پر ان کے ساتھ تین طالبات بھی موجود تھیں، جنہوں نے دعویٰ کیا کہ پولیس کارروائی کے دوران وہ زخمی ہوئی
راہل گاندھی نے زخمی طالبات کے ساتھ پریس کانفرنس کی، وزیراعظم سے معافی مانگنے کا مطالبہ


نئی دہلی، 25 جولائی (ہ س)۔ لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے ہفتہ کو ایک بار پھر احتجاج کرنے والے طلبہ کے ساتھ پریس کانفرنس کی۔ اس موقع پر ان کے ساتھ تین طالبات بھی موجود تھیں، جنہوں نے دعویٰ کیا کہ پولیس کارروائی کے دوران وہ زخمی ہوئی تھیں۔ راہل گاندھی نے ان طالبات کے ساتھ مل کر معاوضہ، معافی اور استعفے سے متعلق اپنی تین مطالبات کو دوبارہ دہرایا۔

سونیا گاندھی کی رہائش گاہ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ طلبہ کا پہلا مطالبہ یہ ہے کہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو مرکزی کابینہ سے برطرف کیا جائے۔ انہیں کسی دوسرے قلمدان میں منتقل کرنا قابل قبول نہیں ہوگا، بلکہ انہیں وزارت سے استعفیٰ دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دھرمیندر پردھان بدعنوانی اور تعلیمی نظام کی زبوں حالی کی علامت بن چکے ہیں اور ان کی موجودگی میں ملک کے بچوں کا مستقبل محفوظ نہیں رہ سکتا۔

دوسرے مطالبے کے طور پر راہل گاندھی نے کہا کہ ان پولیس اہلکاروں اور افسران کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے جنہوں نے طلبہ پر لاٹھی چارج کرایا اور پیلٹ گن کا استعمال کیا۔ انہوں نے اپنے ساتھ کھڑی زخمی طالبہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہزاروں طلبہ ایسے ہیں جن کے ہاتھ پاوں ٹوٹ گئے یا جن کی بینائی متاثر ہوئی۔ ان کے مطابق اس تشدد کے ذمہ دار خواہ منتظمین ہوں یا کارروائی کرنے والے اہلکار، سب کو جوابدہ بنایا جانا چاہیے۔

تیسرے مطالبے کے طور پر راہل گاندھی نے کہا کہ وزیراعظم کو طلبہ اور ملک کے مستقبل سے معافی مانگنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم پورے نظام کے سربراہ ہیں، اس لیے طلبہ کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کی ذمہ داری بھی انہی پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تینوں مطالبات طلبہ کے ہیں اور ان پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔راہل گاندھی نے کہا کہ انہیں اس بات پر فخر ہے کہ ملک کے نوجوان آئین اور جمہوری اداروں کے تحفظ کے لیے کھڑے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق حکومت طلبہ پر حملے کر رہی ہے، انہیں دھمکا رہی ہے اور ان کے مستقبل کو تباہ کر رہی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ اس سے ایک روز قبل بھی راہل گاندھی نے میڈیا سے خطاب کیا تھا، جس میں انہوں نے ایک ایسے طالب علم کو پیش کیا تھا جس کی آنکھ مبینہ طور پر پیلٹ گن سے زخمی ہوئی تھی۔گزشتہ تین دنوں سے راہل گاندھی اس معاملے پر مسلسل سرگرم ہیں۔ 22 جولائی کو انہوں نے پریس کانفرنس میں اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ گزشتہ دس برسوں میں ملک میں 152 امتحانی پرچے لیک ہوئے، جس سے تقریباً ساڑھے سات کروڑ طلبہ کا مستقبل متاثر ہوا۔ اسی روز انہوں نے وزیراعظم کی رہائش گاہ کے باہر دھرنا بھی دیا تھا، جہاں انہیں حراست میں لیا گیا تھا۔ 23 جولائی کو راہل گاندھی اور انڈیا اتحاد کے ارکانِ پارلیمنٹ نے گاندھی اسمرتی (30 جنوری مارگ) پر شمع بردار مارچ اور پرامن احتجاج بھی کیا تھا۔یہ تنازع 20 جولائی کو اس وقت شروع ہوا جب کاکروچ جنتا پارٹی کی قیادت میں طلبہ نے پارلیمنٹ مارچ نکالا۔ خبر کے مطابق، پرامن مظاہرہ کرنے والے طلبہ کو روکنے کے لیے پولیس نے لاٹھی چارج کیا، آنسو گیس کے گولے داغے اور مبینہ طور پر پیلٹ گن کا استعمال بھی کیا، جس کے نتیجے میں 100 سے زائد طلبہ اور متعدد پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔

دوسری جانب مرکزی حکومت نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کی روک تھام کے لیے نئے قانون کی منظوری دے دی ہے۔ اس قانون کے تحت ایسے مقدمات کا فیصلہ فاسٹ ٹریک عدالتوں میں تین ماہ کے اندر کیا جائے گا۔ قصورواروں کو 10 سال تک قید اور 10 کروڑ روپے تک جرمانے کی سزا دی جا سکے گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام طلبہ کے مفاد اور تعلیمی نظام کو زیادہ شفاف بنانے کے لیے ضروری ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande