
این آئی اے نے برطرف پولیس افسر دیویندر سنگھ کی عبوری ضمانت کی درخواست کو مسترد کیا
جموں، 25 جولائی (ہ س)۔ قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) عدالت نے برطرف پولیس افسر دیویندر سنگھ کی عبوری ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے انہیں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پانچ روزہ حراستی پیرول پر والد کی آخری رسومات کے بعد کی مذہبی رسومات میں شرکت کی اجازت دے دی۔ خصوصی جج پریم ساگر نے 21 جولائی کو جاری حکم میں کہا کہ دیویندر سنگھ 27 سے 30 جولائی تک سری نگر میں اپنے مرحوم والد دیدار سنگھ کی آخری رسومات کے بعد ہونے والی مذہبی رسومات میں شرکت کر سکتے ہیں، تاہم انہیں 31 جولائی کو واپس کوٹ بھلوال سنٹرل جیل جموں لایا جائے گا۔
دیویندر سنگھ کو جنوری 2020 میں جنوبی کشمیر کے اننت ناگ ضلع میں حزب المجاہدین کے دہشت گرد کمانڈر سید نوید مشتاق کو گاڑی میں لے جاتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا۔ اس وقت وہ سری نگر ہوائی اڈے سے منسلک پولیس کے انسدادِ اغوا شعبے میں تعینات تھے۔ بعد ازاں قومی تحقیقاتی ایجنسی نے ان کے خلاف فردِ جرم عائد کی، جبکہ انہیں 2021 میں پولیس ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔ وہ 11 جنوری 2020 سے کوٹ بھلوال جیل میں قید ہیں۔
عدالت نے کہا کہ ملزم کی مستقل ضمانت مسترد کیے جانے کے خلاف اپیل جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت ہے، اس لیے عبوری ضمانت دینا مناسب نہیں۔ تاہم انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پانچ روزہ حراستی پیرول منظور کی گئی۔ پیرول کے دوران دیویندر سنگھ پولیس حراست میں رہیں گے اور انہیں روزانہ صبح 10 بجے سے شام 4 بجے تک پولیس کی سخت نگرانی میں مذہبی رسومات کے مقام پر لے جایا جائے گا۔
قومی تحقیقاتی ایجنسی نے عبوری ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ دیویندر سنگھ قومی سلامتی سے متعلق سنگین مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں اور ان کی رہائی سے گواہوں پر اثر انداز ہونے یا مقدمے کی کارروائی میں مداخلت کا خدشہ ہے۔ تاہم ایجنسی نے مناسب پولیس نگرانی اور حفاظتی انتظامات کی شرط پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر حراستی پیرول دینے پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر