علی گنج آتشزدگی کا سانحہ: ایل ڈی اے نے بلڈوزر سے عمارت کو منہدم کر دیا
لکھنو، 25 جولائی (ہ س)۔ اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنومیں آگ لگنے سے 15 افراد کی موت کے بعد متاثرہ عمارت کو آج منہدم کیا جا رہا ہے۔ پولیس کی بھاری نفری موجود ہے۔ مسماری کا عمل پولیس کی نگرانی میں مشینری کے ذریعے کیا جا رہا ہے۔ انہدام کے لیے جے سی
علی گنج آتشزدگی کا سانحہ: ایل ڈی اے نے بلڈوزر سے عمارت کو منہدم کر دیا


لکھنو، 25 جولائی (ہ س)۔

اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنومیں آگ لگنے سے 15 افراد کی موت کے بعد متاثرہ عمارت کو آج منہدم کیا جا رہا ہے۔ پولیس کی بھاری نفری موجود ہے۔ مسماری کا عمل پولیس کی نگرانی میں مشینری کے ذریعے کیا جا رہا ہے۔ انہدام کے لیے جے سی بی ،پوکلین اور ہائیڈرولک مشینوں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

لکھنو¿ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کے زونل افسر مدھویش کمار نے بتایا کہ 45 افسران اور ملازمین کی ایک ٹیم ہفتہ کی صبح علی گنج پہنچی اور انہدام کا کام شروع کیا۔ اس سے قبل پولیس کی ٹیم نے آس پاس کی سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کرکے ٹریفک کو محدود کردیا۔ انہدام کے دوران پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی۔ آپریشن کے دوران عمارت کے مالک وریندر شکلا کی نمائندگی کرنے والے وکیل راجندر شکلا نے مسماری پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ایل ڈی اے نے 25 جولائی کی ڈیڈ لائن دی تھی تو اس دن کارروائی کیسے کی؟ وہ اس کارروائی کو عدالت میں چیلنج کریں گے۔

قابل ذکر ہے کہ 22 جون کو اس عمارت کی دوسری منزل پر واقع ایک کوچنگ سینٹر میں آگ لگ گئی تھی۔ آگ لگنے سے پندرہ افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔ کئی لوگوں نے پائپ اور تاروں سے چھلانگ لگا کر اپنی جان بچائی۔ ایک نوجوان نے عمارت میں چھلانگ لگا دی جس سے اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔ عمارت کے معائنے سے یہ بات سامنے آئی کہ یہ عمارت جو اصل میں رہائشی استعمال کے لیے منظور کی گئی تھی، تجارتی مقاصد کے لیے استعمال ہو رہی تھی۔ ایل ڈی اے نے عمارت کے مالک کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کیا لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔ 10 جولائی کو انہدام کا حکم جاری کیا گیا، جس میں عمارت کو 15 دن کے اندر گرانے کا حکم دیا گیا۔ ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد ایل ڈی اے نے کارروائی شروع کر دی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande