پیپر لیک معاملہ: مایاوتی کا ردِعمل، کہیں تعلیمی نظام میں جامع اصلاحات کا اصل مسئلہ پس منظر میں نہ چلا جائے
لکھنؤ، 25 جولائی (ہ س)۔ بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی قومی صدر مایاوتی نے دہلی کے جنتر منتر پر نیٹ-یو جی سمیت مختلف امتحانات کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف طلبہ کی جاری تحریک پر اپنا ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کے
پیپر لیک معاملہ: مایاوتی کا ردِعمل، کہیں تعلیمی نظام میں جامع اصلاحات کا اصل مسئلہ پس منظر میں نہ چلا جائے


لکھنؤ، 25 جولائی (ہ س)۔

بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی قومی صدر مایاوتی نے دہلی کے جنتر منتر پر نیٹ-یو جی سمیت مختلف امتحانات کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف طلبہ کی جاری تحریک پر اپنا ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاست عروج پر ہے، جس کے باعث تعلیمی نظام میں ضروری اور جامع اصلاحات کا اصل مسئلہ کہیں نظرانداز نہ ہو جائے۔

مایاوتی نے ہفتہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ملک میں نیٹ-یو جی سمیت مختلف امتحانات کے مبینہ پیپر لیک کے بعد طلبہ میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ امتحان دینے والے بعض طلبہ کی خودکشی جیسے واقعات نے تشویش میں مزید اضافہ کیا ہے۔ دوسری جانب ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (سی جے پی) کا دھرنا اور احتجاج عوامی ہمدردی حاصل کر رہا ہے۔ اسی دوران مرکزی وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان شدید سیاسی کشمکش جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرنے کی دوڑ، خصوصاً اپوزیشن جماعتوں میں، سڑک سے لے کر پارلیمنٹ تک دیکھی جا رہی ہے، جس کے باعث حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی اور تصادم کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے، اور اس کے اثرات مختلف ریاستوں تک بھی پہنچ رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی پارٹی کے کارکنوں اور عہدیداروں سے اس صورتحال میں محتاط اور ہوشیار رہنے کی اپیل کی۔

بی ایس پی سربراہ نے کہا کہ اس معاملے کے مکمل طور پر سیاسی رنگ اختیار کر لینے اور جنتر منتر پر احتجاج کرنے والوں کے خلاف پولیس کارروائیوں نے حالات کو مزید سنگین اور کشیدہ بنا دیا ہے۔ ان کے مطابق اسی شدید کشیدگی کے باعث پارلیمنٹ کا موجودہ مانسون اجلاس اب تک ایک دن بھی معمول کے مطابق نہیں چل سکا، جس کے نتیجے میں ملک اور عوامی مفاد سے متعلق کئی اہم معاملات پر حکومت کی جوابدہی متاثر ہوئی ہے۔مایاوتی نے کہا کہ حکومت سی جے پی کی تحریک سے نمٹنے کے لیے جو اقدامات کر رہی ہے، وہ پیپر لیک جیسے واقعات کے بعد بدعنوانی اور نااہلی کے خلاف سخت کارروائی کی علامت تو ہیں، لیکن پیپر لیک جیسے سنگین جرائم کی روک تھام کے لیے مو¿ثر اور پیشگی اقدامات نظر نہیں آ رہے، جس کی وجہ سے عوام میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔انہوں نے اپنی پارٹی کے عہدیداروں اور کارکنوں سے اپیل کی کہ موجودہ سیاسی حالات میں جذباتی یا مایوس ہونے کے بجائے اپنے مشن کے لیے پوری لگن، عزم اور تن، من، دھن کے ساتھ مسلسل سرگرم رہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande