این ڈی اے اتحادی جماعتوں کا دباو بھی دھرمیندر پردھان کے استعفے کی ایک بڑی وجہ قرار
نئی دہلی، 25 جولائی (ہ س)۔ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے پیچھے صرف کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی جانب سے ہونے والے احتجاج ہی نہیں، بلکہ قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کی اتحادی جماعتوں کا بڑھتا ہوا دباو بھی ایک اہم سبب مانا جا رہا
این ڈی اے اتحادی جماعتوں کا دباو بھی دھرمیندر پردھان کے استعفے کی ایک بڑی وجہ قرار


نئی دہلی، 25 جولائی (ہ س)۔ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے پیچھے صرف کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی جانب سے ہونے والے احتجاج ہی نہیں، بلکہ قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کی اتحادی جماعتوں کا بڑھتا ہوا دباو بھی ایک اہم سبب مانا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق دہلی کے جنتر منتر سمیت ملک کی مختلف ریاستوں میں سی جے پی کی حمایت میں طلبہ کے احتجاج میں مسلسل اضافے کے بعد این ڈی اے کی اتحادی جماعتوں نے مرکزی حکومت پر جلد فیصلہ کرنے کے لیے دباو ڈالا۔ بتایا جا رہا ہے کہ مہاراشٹر اور بہار سمیت کئی ریاستوں کی اتحادی جماعتوں نے حکومت کو خبردار کیا تھا کہ اگر بروقت فیصلہ نہ کیا گیا تو یہ احتجاج دیگر ریاستوں تک بھی پھیل سکتا ہے، جس سے این ڈی اے کی حکومت والی ریاستوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اتحادی جماعتوں نے مرکزی حکومت سے واضح طور پر مطالبہ کیا تھا کہ اس معاملے میں فوری فیصلہ کیا جائے۔ حکومت نے بھی صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے مظاہرین کے مطالبات کو قبول کرنا ہی مناسب راستہ سمجھا۔قابلِ ذکر ہے کہ دھرمیندر پردھان نے آج دوپہر مرکزی وزیر تعلیم کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ اپنے استعفے میں انہوں نے لکھا کہ انہوں نے پہلے دن سے ہی پورے معاملے کی ذمہ داری قبول کی اور کبھی اپنی ذمہ داری سے پیچھے نہیں ہٹے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا عزم تھا کہ امتحان مافیا کی وجہ سے کسی بھی ذہین طالب علم کا مستقبل متاثر نہ ہو اور کسی طالب علم کے ساتھ ناانصافی نہ ہونے پائے۔ اپنے استعفے میں انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ بعض ذمہ دار عہدوں پر فائز افراد نے طلبہ کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande