سونیا گاندھی کا نام ووٹر لسٹ میں شامل کرنے کے معاملے میں ایف آئی آر کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
نئی دہلی، 25 جولائی (ہ س)۔ دہلی کی راوز ایونیو سیشنز کورٹ نے 1980 میں سونیا گاندھی کا نام مبینہ طور پر ووٹر لسٹ میں شامل کیے جانے کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ اسپیشل جج وشال گوگنے نے حکم دیا کہ اس معاملے پر
سونیا گاندھی کا نام ووٹر لسٹ میں شامل کرنے کے معاملے میں ایف آئی آر کی درخواست پر فیصلہ محفوظ


نئی دہلی، 25 جولائی (ہ س)۔ دہلی کی راوز ایونیو سیشنز کورٹ نے 1980 میں سونیا گاندھی کا نام مبینہ طور پر ووٹر لسٹ میں شامل کیے جانے کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ اسپیشل جج وشال گوگنے نے حکم دیا کہ اس معاملے پر فیصلہ 13 اگست کو سنایا جائے گا۔

یہ درخواست وکیل وکاس ترپاٹھی نے دائر کی ہے، جس میں مجسٹریٹ کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے جس کے ذریعے سونیا گاندھی کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی۔ 9 دسمبر 2025 کو سیشنز کورٹ نے اس معاملے میں سونیا گاندھی اور دہلی پولیس کو نوٹس جاری کیا تھا۔اس سے قبل 11 ستمبر کو ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ ویبھَو چورسیا نے یہ درخواست خارج کر دی تھی۔

درخواست گزار کا مو¿قف ہے کہ سونیا گاندھی کا نام 1980 میں نئی دہلی اسمبلی حلقے کی ووٹر لسٹ میں شامل کر لیا گیا تھا، جبکہ وہ 1983 میں بھارتی شہری بنیں۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ان کا نام 1982 میں ووٹر لسٹ سے حذف کیا گیا اور بعد میں 1983 میں دوبارہ شامل کیا گیا۔درخواست میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ سونیا گاندھی نے بھارتی شہریت کے لیے اپریل 1983 میں درخواست دی تھی۔ اس بنیاد پر درخواست گزار کا کہنا ہے کہ اگر ان کا نام 1980 میں ووٹر لسٹ میں شامل ہوا تھا تو اس کے لیے مبینہ طور پر جعلی دستاویزات استعمال کیے گئے ہوں گے، جو ایک قابلِ دست اندازی جرم ہے۔ اسی لیے عدالت سے سونیا گاندھی کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دینے کی استدعا کی گئی ہے۔درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مجسٹریٹ کورٹ نے درخواست مسترد کرتے وقت نہ تو سونیا گاندھی کو نوٹس جاری کیا تھا اور نہ ہی دہلی پولیس سے جواب طلب کیا تھا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande