
حیدرآباد میں پرانی جائیدادوں کو ممنوعہ فہرست میں شامل کرنے پر تشویشحیدرآباد ،25 جولائی (ہ س)۔ تلنگانہ میں جائیدادوں کو پروہبیٹڈ لسٹ (ممنوعہ فہرست) میں شامل کیے جانے کے معاملے پرمتاثرہ شہریوں میں تشویش بڑھتی جارہی ہے۔ متعدد افراد کا کہنا ہے کہ برسوں پہلے تمام سرکاری منظوریوں کے ساتھ تعمیرکی گئی اپارٹمنٹس اوررجسٹرڈ پلاٹس کواب سرکاری زمین قراردے کر پروہیبٹیڈ لسٹ میں شامل کیا جا رہا ہے، جس کے باعث رجسٹری کا عمل روک دیا گیا ہے۔ متاثرین کے مطابق، کئی ایسی رہائشی عمارتیں جوحیدرآباد شہرکی حدود میں تمام قانونی اجازت ناموں کے ساتھ تعمیرکی گئی تھیں، اب رجسٹریشن کے وقت تنازع کا شکار ہو رہی ہیں۔ اسی سلسلے میں ایک متاثرہ شخص سیتا رامیانے بتایا کہ انہوں نے 2004 میں دل سکھ نگر کے علاقے میں ایس بی ایچ سوسائٹی کی جانب سے ملازمین کو الاٹ کیے گئے 327 مربع گز کے پلاٹ کو خریدا تھا۔ بعد ازاں تمام سرکاری منظوریوں کے بعد 2008 میں اس پر اپارٹمنٹ تعمیر کیا گیا۔ ان کے مطابق، جب حال ہی میں وہ اپارٹمنٹ کا ایک فلیٹ فروخت کرنے کے لیے سب رجسٹرار دفتر پہنچے توانہیں بتایا گیا کہ ان کا پلاٹ اب پروہیبٹیڈ لسٹ میں شامل ہے، اس لیے رجسٹریشن ممکن نہیں۔ متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ صرف یہی ایک معاملہ نہیں، بلکہ حیدرآباد کے مختلف علاقوں میں بھی اسی نوعیت کی شکایات سامنے آ رہی ہیں، جہاں کئی پرانی اپارٹمنٹس اور پلاٹس کو اچانک پروہیبٹیڈلسٹ میں شامل کیا جا رہا ہے۔ یہ بھی دعویٰ کیا جارہا ہے کہ ایچ ایم ڈی اے اور سابق ہُڈا (ایچ یوڈی اے) کے وہ پلاٹس بھی، جن کی رجسٹری تقریباً 15 سال پہلے قانونی طور پرہو چکی تھی، اب پروہیبٹیڈ لسٹ میں شامل کیے جارہے ہیں۔ متاثرین نے سوال اٹھایا ہے کہ جب انہی جائیدادوں کو ماضی میں حکومت کے مختلف محکموں نے تمام قانونی منظوریوں کے بعد منظورکیا تھا، تو اب انہیں سرکاری زمین قرار دے کر رجسٹریشن سے کیوں روکا جا رہا ہے؟ متاثرہ شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں، حقیقی مالکان کے حقوق کا تحفظ کیا جائے اور جن جائیدادوں کو قانونی طور پر تمام اجازتیں حاصل تھیں، ان کی رجسٹریشن میں حائل رکاوٹیں فوری طور پر دور کی جائیں۔
۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق