
نئی دہلی، 25 جولائی (ہ س)۔ قومی راجدھانی کے جنتر منتر کے قریب ٹالسٹائے مارگ پرہفتہ کی دو پہر کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی ) کے مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے درمیان پرتشدد جھڑپ ہو گئی۔ مشتعل ہجوم نے پارلیمنٹ کی طرف بڑھنے کے لئے مضبوط بیریکیڈز کو توڑنے کی کوشش کی۔ حالات بے قابو ہونے پر دہلی پولیس کو آنسو گیس کے گولے داغنے پڑے اور ہلکا لاٹھی چارج کرنا پڑا۔ مظاہرین مسلسل نعرے بازی کر تے ہوئے پولیس کے حفاظتی حصار کو دھکیل رہے تھے جس کی وجہ سے پولیس کو طاقت کا استعمال کرنا پڑا۔ اس جھڑپ میں دو پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔ انہیں زخمی حالت میں قریبی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق، ہفتہ کی دوپہر ڈھائی بجے کے قریب سی جے پی کے ہزاروں مظاہرین اور کارکن ٹالسٹائے مارگ پر جمع ہوئے۔ وہ حکومت مخالف نعرے بازی کرتے ہوئے آگے بڑھنے کی ضد کر رہے تھے ۔ پولیس نے انہیں روکنے کے لیے بھاری تین پرتوں والی آہنی رکاوٹیں کھڑی کی تھیں۔ مظاہرین نے زبردستی ان بیریکیڈز کو ہلانا اور اکھاڑنا شروع کر دیا۔ جب پولیس نے انہیں لاو¿ڈ اسپیکر کے ذریعے پیچھے ہٹنے کی تنبیہ کی تو ہجوم میں موجود کچھ سماج دشمن عناصر نے اچانک پولیس اہلکاروں پر پتھراو¿ شروع کردیا جس سے افراتفری پھیل گئی۔
ٹالسٹائے مارگ پر آنسو گیس کے گولے چھوڑے جانے اور اس کے نتیجے میں اچانک مچی بھگدڑ کا براہ راست اثر کناٹ پلیس کے کاروباری علاقے پر پڑا۔ آنسو گیس کے دھوئیں کی وجہ سے کناٹ پلیس کے اندرونی اور بیرونی حلقوں میں کئی دکانداروں نے حفاظت کے پیش نظر اپنی دکانیں فوری طور پر بند کر دیں۔ جھڑپ کے فوراً بعد بارہ کھمبا روڈ، ٹالسٹائے مارگ اور جن پتھ کی طرف جانے والی سڑکوں پر شدید ٹریفک جام ہوگیا۔ دہلی ٹریفک پولیس نے عوام کے لیے رہنما خطوط جاری کیے ہیں اور انہیں ان راستوں سے بچنے کا مشورہ دیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد