
لاتور میں ممنوعہ خوشبودار تمباکو کی بڑی کھیپ ضبط۔ 40 لاکھ 47 ہزار 60 روپے مالیت کا ممنوعہ تمباکو اور آئشر ٹیمپو برآمد، تلنگانہ کے دو ملزمان گرفتارلاتور ، 25 جولائی (ہ س) لاتور مقامی کرائم برانچ نے مہاراشٹر حکومت کی جانب سے ممنوع قرار دیے گئے خوشبودار تمباکو کی اسمگلنگ کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے 28 لاکھ 97 ہزار 60 روپے مالیت کا ممنوعہ خوشبودار تمباکو ضبط کر لیا۔ اس کے ساتھ اسمگلنگ میں استعمال ہونے والا 11 لاکھ 50 ہزار روپے مالیت کا آئشر ٹیمپو بھی قبضے میں لے لیا گیا۔ کارروائی کے دوران مجموعی طور پر 40 لاکھ 47 ہزار 60 روپے مالیت کا سامان برآمد کیا گیا، جبکہ تلنگانہ کے دو افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔پولیس کے مطابق ضلع لاتور میں غیر قانونی کاروبار، ممنوعہ تمباکو مصنوعات کی نقل و حمل، ذخیرہ اندوزی اور فروخت کے خلاف کارروائیاں مزید سخت کر دی گئی ہیں۔ اسی مہم کے تحت مقامی کرائم برانچ کے پولیس انسپکٹر سدھاکر باوکر کی رہنمائی میں خصوصی ٹیم نے جمعہ 25 جولائی کی علی الصبح تقریباً 4 بج کر 10 منٹ پر لامجنا تلجاپور ٹی پوائنٹ روڈ پر ناکہ بندی کے دوران رجسٹریشن نمبر ٹی ایس 12 یو ای 4190 والے آئشر ٹیمپو کو روک لیا۔پولیس نے گاڑی میں سوار دونوں افراد سے پوچھ گچھ کی، جنہوں نے اپنی شناخت محمد شیرو محمد سلیم، عمر 29 سال، ساکن آٹاری، ضلع رنگا ریڈی، تلنگانہ، اور رحیم اسماعیل شیخ، عمر 26 سال، ساکن ارش محل، کشن باغ، ضلع حیدرآباد، تلنگانہ، کے طور پر بتائی۔ جب دونوں افراد گاڑی میں موجود سامان کے بارے میں اطمینان بخش جواب نہ دے سکے تو پولیس نے ٹیمپو کی تلاشی لی۔ تلاشی کے دوران مہاراشٹر حکومت کی جانب سے ممنوع قرار دیا گیا خوشبودار تمباکو اور راج رتن کیمام نامی شیشیوں میں پیک بڑی مقدار میں تمباکو برآمد ہوا۔پولیس نے مختلف برانڈز کے ممنوعہ خوشبودار تمباکو، راج رتن کیمام کے ڈبے اور اسمگلنگ میں استعمال ہونے والا آئشر ٹیمپو ضبط کر لیا۔ ضبط شدہ سامان کی مجموعی مالیت 40 لاکھ 47 ہزار 60 روپے بتائی گئی ہے۔ اس معاملے میں اوسا پولیس اسٹیشن میں مقدمہ نمبر 420/2026 درج کیا گیا ہے۔ مقدمہ بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعات 123، 275، 223 اور 3(5) کے تحت درج کیا گیا ہے۔ دونوں ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔پولیس اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ ممنوعہ تمباکو کہاں سے لایا گیا، کس کی ہدایت پر اس کی نقل و حمل کی جا رہی تھی اور اس اسمگلنگ ریکیٹ میں مزید کون کون افراد ملوث ہیں۔ اوسا پولیس مختلف پہلوؤں سے مزید تفتیش کر رہی ہے۔ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے