سی جے پی نے جنتر منتر جانے سے روکنے پر دہلی پولیس کمشنر سے مداخلت کا مطالبہ کیا
نئی دہلی، 25 جولائی (ہ س)۔ سوشل میڈیا مہم ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (سی جے پی) نے لوگوں کو جنتر منتر پہنچنے سے روکنے کے معاملے پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے دہلی پولیس کمشنر سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ سی جے پی نے ہفتہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پ
سی جے پی نے جنتر منتر جانے سے روکنے پر دہلی پولیس کمشنر سے مداخلت کا مطالبہ کیا


نئی دہلی، 25 جولائی (ہ س)۔

سوشل میڈیا مہم ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (سی جے پی) نے لوگوں کو جنتر منتر پہنچنے سے روکنے کے معاملے پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے دہلی پولیس کمشنر سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔

سی جے پی نے ہفتہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں جنتر منتر کے اطراف پولیس کی جانب سے مبینہ طور پر پیدا کیے جا رہے ”خوف اور محاصرے کے ماحول“ کی سخت مذمت کی۔ تنظیم کا الزام ہے کہ گزشتہ ایک ماہ سے زائد عرصے سے ہزاروں طلبہ، والدین، اساتذہ اور شہری جنتر منتر پر پرامن احتجاج کر رہے ہیں، لیکن جمہوری احتجاج میں تعاون کرنے کے بجائے دہلی پولیس شہریوں کو غیر قانونی طور پر حراست میں لے رہی ہے اور انہیں ڈرا دھمکا رہی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ مظاہرین کے لیے کھانا لے جانے والے رضاکاروں کو روکا جا رہا ہے، جبکہ پینے کے پانی، ادویات، صفائی کے سامان اور دیگر ضروری اشیاءکی فراہمی میں بھی رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔ تنظیم کے مطابق یہ صورتحال جنتر منتر کے عملی محاصرے کے مترادف ہے۔اپنے بیان میں سی جے پی نے سپریم کورٹ کے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پرامن احتجاج بھارت کے آئینی جمہوری نظام کا لازمی حصہ ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ جنتر منتر کوئی فوجی علاقہ یا جیل نہیں، بلکہ جمہوریت میں احتجاج کے لیے مختص مقام ہے۔ پولیس کی ذمہ داری پرامن اجتماعات کو منظم کرنا ہے، نہ کہ خوف، بھوک اور تنہائی کے ذریعے انہیں دبانا۔

سی جے پی نے دہلی پولیس کمشنر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ متعلقہ افسران کو فوری ہدایت دیں کہ شہریوں کو جنتر منتر جانے سے روکنے اور انہیں ہراساں کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔ اس کے علاوہ کھانے، پینے کے پانی، ادویات اور طبی امداد کی فراہمی میں حائل تمام رکاوٹیں ختم کی جائیں، اور رضاکاروں، اہلِ خانہ، وکلا، صحافیوں اور طبی عملے کو بغیر کسی رکاوٹ کے احتجاجی مقام تک رسائی دی جائے۔ تنظیم نے آئین کی بنیادی روح کا احترام کرتے ہوئے اختلافِ رائے کے بنیادی حق کے تحفظ کا بھی مطالبہ کیا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande