
گوہاٹی، 25 جولائی (ہ س)۔ مرکزی حکومت نے بالائی آسام میں آنے والے شدید سیلاب کو انتہائی ترجیح دیتے ہوئے راحت، بچاو¿، بازآبادکاری اور طویل مدتی تعمیر نو کے لیے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا ہے۔ آسام کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر ہیمنت بسوا سرما نے ہفتہ کے روز وزیر اعظم نریندر مودی سے ٹیلی فون پر ہونے والی بات چیت کے بعد یہ جانکاری دی۔وزیر اعلیٰ نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ وزیر اعظم مودی نے خود فون کر کے ریاست میں سیلاب کی صورتحال کی تفصیلی معلومات حاصل کیں۔ اس دوران وزیر اعظم نے جانی و مالی نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی ظاہر کی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ قدرتی آفت سے نمٹنے کے لیے مرکزی حکومت ہر مرحلے پر آسام حکومت کے ساتھ کھڑی ہے اور راحت، بچاو، بازآبادکاری اور تعمیر نو کے کاموں کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کرے گی۔ہیمنت بسوا سرما نے وزیر اعظم کو ریاستی حکومت کی جانب سے جاری راحت اور بچاو¿ مہم کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ انتظامیہ متاثرہ خاندانوں تک امداد پہنچانے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے سیلاب سے ہونے والے نقصانات، امدادی کارروائیوں کی پیش رفت اور متاثرہ علاقوں میں درپیش مشکلات کے بارے میں بھی تفصیلی معلومات حاصل کیں۔ اس دوران مرکزی حکومت کی ایک بین وزارتی ٹیم آج آسام پہنچ رہی ہے۔ یہ ٹیم سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا زمینی معائنہ کر کے نقصانات کا جائزہ لے گی، جس کی رپورٹ کی بنیاد پر اضافی مرکزی امداد، بازآبادکاری اور تعمیر نو سے متعلق فیصلے کیے جائیں گے۔ وزیر اعلیٰ کے مطابق اس ٹیم کی رپورٹ فوری امدادی مرحلے کے بعد دی جانے والی جامع مرکزی مدد کے تعین میں اہم کردار ادا کرے گی۔ادھر آسام اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (اے ایس ڈی ایم اے) کی جانب سے جمعہ کی رات جاری کردہ سیلابی بلیٹن کے مطابق، ریاست میں اب بھی 856 دیہات زیرِ آب ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سیلاب سے متعلق مختلف واقعات میں 14 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اگرچہ بڑے پیمانے پر راحت اور بچاو کی کارروائیاں جاری ہیں، تاہم کئی علاقوں تک امدادی سامان پہنچانا اب بھی ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے جمعہ کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ اب بھی تقریباً 80 ہزار افراد امدادی سامان کے منتظر ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ متاثرہ شیوساگر ضلع کے نذیرا علاقے کے تقریباً 50 ہزار افراد اور ضلع کے دیگر علاقوں کے لگ بھگ 30 ہزار افراد شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی مقامات پر سیلاب کا پانی اترنا شروع ہو گیا ہے، لیکن بڑی مقدار میں جمع کیچڑ اور گاد کے باعث متعدد دیہات کا رابطہ امدادی نظام سے ابھی تک مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکا ہے۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan