آسام میں سیلاب سے 12 اضلاع کی 7 لاکھ سے زائد آبادی متاثر، مزید 14 لاشیں برآمد
گوہاٹی، 25 جولائی (ہ س)۔ مسلسل بارشوں کے باعث آسام میں آنے والے سیلاب کی صورتحال بالائی آسام میں اب بھی انتہائی سنگین بنی ہوئی ہے۔ آسام اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (اے ایس ڈی ایم اے) کی جانب سے 24 جولائی تک جاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھن
آسام میں سیلاب سے 12 اضلاع کی 7 لاکھ سے زائد آبادی متاثر، مزید 14 لاشیں برآمد


گوہاٹی، 25 جولائی (ہ س)۔ مسلسل بارشوں کے باعث آسام میں آنے والے سیلاب کی صورتحال بالائی آسام میں اب بھی انتہائی سنگین بنی ہوئی ہے۔ آسام اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (اے ایس ڈی ایم اے) کی جانب سے 24 جولائی تک جاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 14 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ریاست میں سیلاب سے ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 61 ہو گئی ہے۔ریاست میں خطرے کے نشان سے اوپر بہنے والی ندیوں میں دیکھو (شیوساگر)، دیسانگ (ننگلامورہ گھاٹ)، دھنسری (نومالی گڑھ) کشیارا (شری بھومی) شامل ہیں۔وزیراعلیٰ ڈاکٹر ہیمنت بسوا شرما خود جنگی بنیادوں پر سیلابی صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں اور تمام متعلقہ اقدامات کی نگرانی کر رہے ہیں۔ انہوں نے ریاستی وزراءکو بھی ہدایت دی ہے کہ وہ متاثرہ علاقوں کا دورہ کرکے امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کریں۔ جمعہ کو وزیراعلیٰ نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے سیلاب سے متاثرہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں سے بات چیت کرتے ہوئے امدادی کاموں میں مزید تیزی لانے کی ہدایت دی۔اس وقت سیلاب سے ریاست کے 12 اضلاع متاثر ہیں، جن میں گولاگھاٹ، چرائدیو، ڈبروگڑھ، ہوجائی، ناگاوں، بشوناتھ، جورہاٹ، دھیماجی، شیوساگر، شونت پور، کامروپ (میٹرو) اور کاربی آنگلونگ شامل ہیں۔ ان اضلاع کے 37 ریونیو سرکلوں کے مجموعی طور پر 856 گاوں زیرِ آب ہیں۔ سیلاب سے 7 لاکھ 5 ہزار 148 افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ 56 ہزار 606.777 ہیکٹر زرعی اراضی پانی میں ڈوب چکی ہے۔ریاستی حکومت نے متاثرین کے لیے 96 امدادی کیمپ اور 267 امدادی تقسیم مراکز قائم کیے ہیں، یعنی مجموعی طور پر 363 مراکز فعال ہیں۔ امدادی کیمپوں میں ایک لاکھ 15 ہزار 205 افراد نے پناہ لے رکھی ہے، جبکہ دو لاکھ 56 افراد غیر رہائشی مراکز سے امدادی سامان حاصل کر رہے ہیں۔24 جولائی کو سیلابی پانی سے مجموعی طور پر 14 لاشیں برآمد ہوئیں، جن میں چرائدیو سے 7، شیوساگر سے 6 اور جورہاٹ سے ایک لاش شامل ہے۔سیلاب سے متاثرہ مویشیوں کی مجموعی تعداد 3 لاکھ 34 ہزار 20 ریکارڈ کی گئی ہے، جن میں 96 ہزار 483 بڑے جانور، 53 ہزار 692 چھوٹے جانور اور ایک لاکھ 83 ہزار 845 پولٹری شامل ہیں۔ اس دوران سیلابی ریلے میں مجموعی طور پر 17 ہزار 107 جانور بہہ گئے، جن میں جورہاٹ میں 4، ڈبروگڑھ میں ایک اور شیوساگر میں 17 ہزار 102 جانور شامل ہیں۔امدادی اور بچاو کارروائیوں میں ایس ڈی آر ایف، ڈی ڈی آر ایف، این ڈی آر ایف، پولیس، فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز، مقامی انتظامیہ، سول ڈیفنس کے تربیت یافتہ رضاکار اور محکمہ فائر بریگیڈ سرگرم ہیں۔ریاستی حکومت نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں 139 طبی ٹیمیں بھی تعینات کی ہیں۔ اس دوران 63 کشتیاں امدادی کارروائیوں میں مصروف رہیں اور ان کی مدد سے سیلاب میں پھنسے 998 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔حکومت کی جانب سے متاثرین میں 2,109.843 کوئنٹل چاول، 383.9254 کوئنٹل دال، 129.910021 کوئنٹل نمک، 9,646.0821 لیٹر سرسوں کا تیل، جانوروں کے لیے 4,001.315 کوئنٹل گیہوں کا چوکر اور 571.502 کوئنٹل چاول کا چوکر بطور امدادی سامان تقسیم کیا گیا۔سیلاب سے بڑی تعداد میں سڑکیں، پل اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا ہے، جس کا حکومت مسلسل جائزہ لے رہی ہے۔ وزیراعلیٰ ڈاکٹر ہیمنت بسوا شرما نے جمعہ کو ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں سیلاب کی صورتحال اب بھی نہایت سنگین ہے اور امدادی و حفاظتی اقدامات میں مزید تیزی لائی جا رہی ہے۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande