

کولکاتا، 25 جولائی (ہ س)۔
ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی کے خلاف ایک اور ایف آئی آردرج کی گئی ہے۔ یہ معاملہ پیلان میں واقع ایک رسارٹ میں زبردستی طبی کیمپ کے انعقاد سے متعلق ہے۔ رسارٹ کے نمائندے سمیرن رائے کی شکایت پر وشنو پور تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ شکایت میں ابھیشیک بنرجی کے سابق قریبی معاون سمت رائے اور رکنِ اسمبلی دلیپ منڈل کا نام بھی شامل ہے۔ پولیس نے شکایت کی بنیاد پر ایف آئی آر درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
شکایت کے مطابق، ’سیواشرے‘ پروگرام کے لیے رسارٹ کو تقریباً 40 دنوں تک بند رکھنا پڑا۔ اس مدت کے دوران 110 سے 120 ڈاکٹروں اور عملے کی رہائش، طعام اور آمد و رفت کے انتظامات رسارٹ انتظامیہ کو ہی کرنے پڑے۔ الزام ہے کہ اس پورے پروگرام کے اخراجات بھی رسارٹ انتظامیہ کو ہی برداشت کرنے پڑے۔ اس کے باعث سیاحتی سیزن میں رسارٹ کو شدید مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
شکایت میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ رکنِ اسمبلی دلیپ منڈل اور سمت رائے نے رسارٹ کے مالک پر دباو بنایا۔ مقامی کیمپ کے انتظام کے نام پر اضافی رقم بھی وصول کی گئی۔ الزام ہے کہ رقم نہ دینے پر رسارٹ میں توڑ پھوڑ اور ذاتی سیکورٹی کو خطرے میں ڈالنے کی دھمکی دی گئی۔ شکایت کے مطابق، سال 2025 اور 2026 میں ’سیواشرے‘ اور ’سیواشرے-2‘ پروگراموں کی وجہ سے رسارٹ کو 20 سے 25 لاکھ روپے کا مالی نقصان ہوا۔
رسارٹ کی جانب سے شکایت کنندہ سمیرن رائے کا کہنا ہے کہ تمام ملزمان بااثر افراد ہیں۔ اسی وجہ سے خوف کے باعث وہ اب تک شکایت درج نہیں کرا سکے۔ ریاست میں حکومت کی تبدیلی کے بعد انہوں نے ہمت جمع کرکے پولیس کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ ان کی شکایت کی بنیاد پر پولیس نے زبردستی وصولی اور انسدادِ بدعنوانی قانون کی مختلف دفعات کے تحت ابھیشیک بنرجی کے خلاف مقدمہ درج کر کے جانچ شروع کر دی ہے۔ قابلِ ذکر ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد ابھیشیک بنرجی کے خلاف مختلف مقامات پر متعدد معاملات میں ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ ابھیشیک بنرجی نے ان معاملات کو سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں عدالت کا بھی دروازہ کھٹکھٹایا تھا، تاہم عدالت نے واضح کر دیا کہ انہیں مجموعی طور پر کسی قسم کا تحفظ فراہم نہیں کیا جا سکتا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / انظر حسن