
گوہاٹی، 25 جولائی (ہ س)۔ آسام پولیس کی اسپیشل ٹاسک فورس (ایس ٹی ایف) نے زیریں آسام کے دھوبڑی، چرانگ اور برپیٹا اضلاع میں مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے پاکستان میں قائم دہشت گرد و مجرمانہ تنظیم شہزاد بھٹی نیٹ ورک (ایس بی این) کے تین مبینہ ارکان کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ کارروائی کے دوران موبائل فون، سم کارڈ، بینکاری دستاویزات اور دیگر قابل اعتراض مواد بھی برآمد کیا گیا۔ معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔
آسام پولیس کے چیف پبلک ریلیشنز آفیسر (سی پی آر او) نے ہفتہ کے روز بتایا کہ ایس ٹی ایف تھانے میں درج مقدمہ نمبر 06/2026 کے سلسلے میں 24 جولائی کو دھوبڑی، چرانگ اور برپیٹا ضلع پولیس کے تعاون سے مشترکہ مہم چلائی گئی، جس کے دوران ایس بی این سے وابستہ تین مبینہ ارکان کو گرفتار کیا گیا۔
گرفتار ملزمان کی شناخت دھوبڑی ضلع کے بیپاری پاڑہ کے رہائشی اکرم الاسلام (26)، چرانگ ضلع کے دھوپیری، پانباری کے رہائشی امین الرحمٰن (22) اور برپیٹا ضلع کے دبنڈیا، کالگاچھیا کے رہائشی عبدالحسین (54) کے طور پر ہوئی ہے۔
سی پی آر او کے مطابق یہ کارروائی شہزاد بھٹی نیٹ ورک کی سرگرمیوں سے متعلق موصول ہونے والی مصدقہ خفیہ اطلاع کی بنیاد پر کی گئی۔ تفتیشی ایجنسیوں کے مطابق پاکستان میں قائم یہ دہشت گرد و مجرمانہ نیٹ ورک ملک کے مختلف حصوں میں افراد کی بھرتی، آن لائن انتہا پسندی پھیلانے، ریکی (نگرانی)، لاجسٹک معاونت، جاسوسی، اسلحہ کی غیر قانونی خریداری، سلیپر سیلز تیار کرنے اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کی حمایت جیسے الزامات کی زد میں ہے۔
ابتدائی تفتیش اور خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر الزام ہے کہ شہزاد بھٹی نیٹ ورک پاکستان میں موجود اپنے ہینڈلرز کے ذریعے خفیہ اور انکرپٹڈ مواصلاتی ذرائع استعمال کرتا ہے اور پاکستان کی انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کی ہدایات پر کام کرتا ہے۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ نیٹ ورک اپنی سرگرمیوں اور سرحد پار روابط کو چھپانے کے لیے کئی فرنٹ تنظیموں کا استعمال کرتا ہے۔ ان میں خالصتان آرمڈ فورس (کے اے ایف)، پنجاب سوورنٹی الائنس (پی ایس اے)، خالصتان لبریشن آرمی (کے ایل اے)، شیرِ پنجاب بریگیڈ (ایس پی بی)، یونائیٹڈ سکھ برادرہڈ (یو ایس بی)، سکھ ٹائیگرز آف خالصتان (ایس ٹی کے) اور تحریکِ طالبان ہندوستان (ٹی ٹی ایچ) جیسے تنظیموں کے نام تفتیش میں سامنے آئے ہیں۔
پولیس کے مطابق، سال 2026 میں ٹی ٹی ایچ نے 22 فروری اور 24 مئی کو پنجاب پولیس کے اہلکاروں کی دو ہدفی ہلاکتوں کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ آسام میں اس نیٹ ورک کی سرگرمیوں کا پہلی بار انکشاف نلباڑی ضلع میں جاری ایک تفتیش کے دوران ہوا تھا، جس کے بعد 22 مئی 2026 کو ایک مبینہ رکن کو گرفتار کیا گیا تھا۔
ایس ٹی ایف نے اس کارروائی کے دوران پانچ موبائل فون، سات سم کارڈ، آدھار کارڈ، بینک پاس بکس، ڈیبٹ کارڈز اور دیگر قابل اعتراض دستاویزات بھی ضبط کی ہیں۔ پولیس پورے نیٹ ورک کے دیگر ممکنہ ارکان اور ان کے روابط کا پتہ لگانے کے لیے معاملے کی گہرائی سے تفتیش کر رہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد