دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ پر عام آدمی پارٹی مرکزی حکومت پر حملہ کیا، طلبا کے احتجاج کو جمہوریت اور نوجوان طاقت کی جیت قرار دیا
نئی دہلی، 25 جولائی (ہ س)۔ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے بعد، عام آدمی پارٹی (اے اے پی) نے مرکزی حکومت پر سخت حملہ کیا۔ پارٹی کے سینئر رہنماو¿ں نے اسے طلبہ اور نوجوانوں کی طویل تحریک کی جیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو عوامی دب
AAP-Dharmendra-Pradhan-Resignation-Reaction


نئی دہلی، 25 جولائی (ہ س)۔ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے بعد، عام آدمی پارٹی (اے اے پی) نے مرکزی حکومت پر سخت حملہ کیا۔ پارٹی کے سینئر رہنماو¿ں نے اسے طلبہ اور نوجوانوں کی طویل تحریک کی جیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو عوامی دباو¿ کے سامنے جھکنا پڑا۔ انہوں نے تعلیمی نظام میں جامع اصلاحات اور احتساب کے اپنے مطالبے کا بھی اعادہ کیا۔

اے اے پی کے راجیہ سبھا ایم پی سنجے سنگھ نے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں میں یہ پہلا موقع ہے جب مرکزی حکومت کو کسی وزیر سے استعفیٰ دینا پڑا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کسانوں کے احتجاج کے بعد یہ دوسرا موقع ہے کہ حکومت عوامی تحریک کے دباو¿ کے سامنے جھک گئی ہے۔ انہوں نے وزیر تعلیم کے استعفیٰ اور نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کو نوجوانوں کی جدوجہد کی ایک بڑی جیت قرار دیا۔

دہلی کے سابق نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا نے کہا کہ ملک کے طلبا اور نوجوانوں نے بظاہر ناممکن نظر آنے والی جنگ جیت لی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف پہلی جیت ہے اور یہ ملک میں تعلیمی اصلاحات کے لیے ایک نئی تحریک کا آغاز کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ پیپر لیکس کے خلاف جنگ مستقبل میں تعلیمی نظام میں بڑی تبدیلیوں کی بنیاد رکھے گی۔

سینئر لیڈر گوپال رائے نے کہا کہ نیٹ پیپر لیک ہونے کے بعد طلبا نے کافی دیر تک احتجاج کیا اور احتجاج کے دوران انہیں جابرانہ کارروائی کا سامنا کرنا پڑا، لیکن نوجوانوں نے ہار ماننے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ آخر کار حکومت کو ہار ماننی پڑی جو جمہوریت اور طلبہ کی طاقت کی فتح ہے۔

دہلی کے ریاستی صدر سوربھ بھردواج نے کہا کہ اپنے وزرا کے استعفے نہ دینے پر فخر کرنے والی حکومت کو ملک کی نوجوان نسل نے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کے دوران طلبا پر طرح طرح کے الزامات لگائے گئے لیکن وہ اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹے۔

دہلی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر آتشی نے کہا کہ دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ نوجوان طاقت کی جیت ہے اور اس کا سہرا تحریک میں شامل تمام طلبہ اور نوجوانوں کو جاتا ہے۔

ایم سی ڈی میں قائد حزب اختلاف انکش نارنگ نے کہا کہ طلبہ کی یکجہتی اور جمہوری جدوجہد ثابت کرتی ہے کہ جب نوجوان متحد ہو کر اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو طاقت کو بھی جواب دینا چاہیے۔ دریں اثنا، کونڈلی کے ایم ایل اے کلدیپ کمار نے کہا کہ اس تحریک نے یہ ظاہر کیا کہ طاقت کا غرور عوامی طاقت کے سامنے باقی نہیں رہ سکتا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande