
نئی دہلی، 24 جولائی(ہ س)۔
عام آدمی پارٹی کے دہلی پردیش صدر سوربھ بھاردواج نے پیپر لیک کے معاملے پر مودی حکومت کی جانب سے قانون لانے اور اس پر پارلیمنٹ میں بحث کرانے کے پیچھے کی نیت پر سوال اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں بحث ایک سازش ہے۔ بی جے پی حکومت اچانک ایسا قانون کیوں لانا چاہتی ہے، جس کا کسی نے مطالبہ ہی نہیں کیا؟ جب حکومت اسے آرڈیننس کے ذریعے بھی لا سکتی ہے تو پھر پارلیمنٹ میں اس بل پر بحث کیوں کرانا چاہتی ہے؟ حکومت ایسا اس لیے کر رہی ہے، کیونکہ وہ دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے کو لے کر جنتر منتر پر جاری طلبہ کے احتجاج سے ملک کی توجہ ہٹانا چاہتی ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ ملک کے عوام پارلیمنٹ میں حکمراں جماعت اور اپوزیشن کے درمیان ہونے والی الزام تراشی اور جوابی الزام تراشی میں الجھ کر رہ جائیں۔ سوربھ بھاردواج نے مزید کہا کہ حکومت کی جانب سے اچانک نیا قانون لانے کی بات کرنا پورے معاملے سے توجہ ہٹانے کی ایک کوشش ہے۔ طلبہ نے کسی قانون کا مطالبہ نہیں کیا ہے، وہ صرف وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ نئے قانون پر پارلیمنٹ میں بحث کرانے کے حکومت کے دعوے پر سوال اٹھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس حکومت نے کبھی قوانین پر بحث نہیں کرائی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ کسانوں کے خلاف لائے گئے کالے قوانین اور دہلی کے اختیارات چھیننے والے قوانین بھی بغیر کسی بحث کے ہی لائے گئے تھے۔ جب بھی حکومت کو کوئی قانون لانا ہوتا ہے تو وہ بغیر بحث کے براہِ راست آرڈیننس لے آتی ہے۔ سوربھ بھاردواج نے اسے حکومت کا ایک واضح جال قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ یہ معاملہ جنتر منتر پر بیٹھے طلبہ سے ہٹ کر پارلیمنٹ تک پہنچ جائے اور حکومت و اپوزیشن کے درمیان سیاسی الزام تراشی اور جوابی الزام تراشی میں الجھ کر رہ جائے۔ حکومت کی نیت یہ ہے کہ ملک اس نئے قانون کی پیچیدگیوں میں الجھ جائے، تاکہ دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ ختم ہو جائے۔ جو حکومت ہمیشہ بحث سے گریز کرتی رہی ہے، اس کا یہ قدم مکمل طور پر ایک سازش ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais