پالگھر میں شدید بارش اور سیلاب سے دو افراد ہلاک، 244 افراد کو محفوظ نکالا گیا، 200 سے زائد دیہات کا رابطہ منقطع، تمام اسکول بند
ممبئی ، 24 جولائی (ہ س) گزشتہ دو دنوں سے جاری موسلادھار مانسون بارش نے مہاراشٹر کے پالگھر ضلع میں شدید تباہی مچا دی ہے۔ سیلاب اور بارش سے متعلق مختلف واقعات میں دو افراد کی موت ہو گئی، جبکہ مختلف علاقوں سے مجموعی طور پر 244 افراد کو بحفاظت نکالا
WEATHER MAHA PALGHAR FLOODS


ممبئی ، 24 جولائی (ہ س) گزشتہ دو دنوں سے جاری موسلادھار مانسون بارش نے مہاراشٹر کے پالگھر ضلع میں شدید تباہی مچا دی ہے۔ سیلاب اور بارش سے متعلق مختلف واقعات میں دو افراد کی موت ہو گئی، جبکہ مختلف علاقوں سے مجموعی طور پر 244 افراد کو بحفاظت نکالا گیا ہے۔ مسلسل بارش کے باعث کئی دیہات زیر آب آ گئے، مکانات کو نقصان پہنچا، ٹرانسپورٹ کا نظام بری طرح متاثر ہوا اور 200 سے زائد دیہات کا تعلق اپنے تعلقہ اور ضلعی ہیڈکوارٹر سے منقطع ہو گیا۔

شدید بارش اور سیلاب جیسی صورتحال کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ نے احتیاطی اقدام کے طور پر جمعہ کے روز پالگھر ضلع کے تمام اسکولوں اور تعلیمی اداروں کو بند رکھنے کا حکم جاری کیا ہے۔ ضلعی ڈیزاسٹر مینجمنٹ سیل کے سربراہ ویویکانند قدم کے مطابق مختلف سرکاری اداروں کی مشترکہ امدادی ٹیموں نے پوری رات ریسکیو آپریشن جاری رکھا، جو جمعہ کی صبح تقریباً 5 بجے مکمل ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پھنسے تمام افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

سیلاب میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر دو ہو گئی ہے۔ حکام کے مطابق جمعرات کو دہانو علاقے میں سیلابی ریلے میں بہہ جانے والے ایک شخص کی لاش برآمد کی گئی، تاہم رپورٹ تیار کیے جانے تک اس کی شناخت نہیں ہو سکی تھی۔ اس سے قبل ضلع کے ایک اور علاقے میں سیلابی نالے سے ایک شخص کی لاش ملی تھی۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق مختلف علاقوں سے مجموعی طور پر 244 افراد کو بچایا گیا، جن میں پالگھر شہر کے 124 رہائشی، تلاسری میں ایک فیکٹری میں پھنسے 65 مزدور اور گنڈالے کے ایک فارم ہاؤس میں محصور 25 افراد شامل ہیں۔ یہ ریسکیو کارروائیاں ضلعی انتظامیہ، نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس اور دیگر ہنگامی امدادی اداروں نے مشترکہ طور پر انجام دیں۔

حکام نے بتایا کہ مسلسل بارش اور ڈیموں سے پانی چھوڑے جانے کے باعث دریاؤں میں طغیانی آ گئی ہے، جس سے پالگھر گزشتہ ایک دہائی کے بدترین سیلاب کا سامنا کر رہا ہے۔ سڑکوں اور پلوں کے زیر آب آنے سے 200 سے زیادہ دیہات کا اپنے تعلقہ ہیڈکوارٹر اور ضلعی صدر مقام سے زمینی رابطہ مکمل طور پر منقطع ہو گیا ہے۔ امدادی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ضلع میں پہلے سے موجود نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس کی دو ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں، جبکہ ممبئی سے مزید تین اضافی ٹیمیں طلب کی گئی ہیں تاکہ زیادہ متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں کو تیز کیا جا سکے۔

واڈا تعلقہ سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں شامل ہے، جہاں مسلسل بارش اور تیز ہواؤں کے باعث تقریباً 20 مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ دھان کی فصلوں کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے۔ چار پل پانی میں ڈوب جانے سے کئی دیہات کا رابطہ منقطع ہو گیا اور معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ شدید بارش کے دوران کئی ہنگامی واقعات بھی پیش آئے۔ وسئی ویسٹ میں سن سٹی گھاس روڈ پر ایک کار آوارہ کتے سے بچنے کی کوشش میں پانی سے بھرے گڑھے میں جا گری۔ مقامی لوگوں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے گاڑی میں سوار چاروں افراد کو بحفاظت باہر نکال لیا، اس سے پہلے کہ گاڑی مکمل طور پر پانی میں ڈوب جاتی۔

ایک دوسرے واقعے میں سیوان علاقے میں بڑھتے ہوئے سیلابی پانی میں مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی ایک بس پھنس گئی، جس میں چار مسافروں سمیت مجموعی طور پر چھ افراد موجود تھے۔ مقامی رہائشیوں نے رسیوں کی مدد سے تمام افراد کو بحفاظت نکال لیا۔ مسلسل بارش کے باعث ممبئی احمد آباد قومی شاہراہ پر بھی آمد و رفت شدید متاثر ہوئی، خصوصاً تلاسری سے امبرگاؤں کے درمیان پانی جمع ہونے سے گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔ مختلف مقامات پر درخت گرنے، سڑکوں کے زیر آب آنے اور حد نگاہ کم ہونے سے ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر رہی۔

پولیس نے قومی شاہراہ کے متاثرہ حصوں سے گاڑیوں کا رخ قریبی ہوٹلوں اور سڑک کنارے موجود دیگر محفوظ مقامات کی جانب موڑ دیا اور مسافروں کو موسم بہتر ہونے تک سفر روکنے کا مشورہ دیا۔ بعد ازاں کئی سڑکوں اور پلوں سے پانی اترنے کے بعد ٹریفک کی آمد و رفت بتدریج بحال ہونا شروع ہو گئی۔ ضلع کلکٹر اندو رانی جاکھر نے دن بھر سیلابی صورتحال کی مسلسل نگرانی کی، جبکہ محکمہ مال کے افسران نے مکانات، زرعی زمینوں اور دیگر املاک کو پہنچنے والے نقصانات کا پنچنامہ تیار کرنے کا کام شروع کر دیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے کہا ہے کہ جب تک سیلاب کی صورتحال مکمل طور پر معمول پر نہیں آ جاتی، متاثرہ علاقوں میں ریسکیو، راحت اور بازآبادکاری کی کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔

ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande