کولکاتا میں سی جے پی کے مجوزہ احتجاجی مارچ پر سیاست گرم، بی جے پی نے اعتراض کیا، ترنمول کی حمایت
کولکاتا، 24 جولائی (ہ س)۔ این ای ای ٹی پیپر لیک، تعلیمی نظام میں مبینہ بدعنوانی اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے کے لئے کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے مجوزہ احتجاجی مارچ کو لے کر کولکاتا کا سیاسی ماحول جمعہ کو گرم ہوگیا ہے
WB-MAMATA-SUPPORT-CJP-REVOLUTION-KOLKATA


کولکاتا، 24 جولائی (ہ س)۔ این ای ای ٹی پیپر لیک، تعلیمی نظام میں مبینہ بدعنوانی اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے کے لئے کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے مجوزہ احتجاجی مارچ کو لے کر کولکاتا کا سیاسی ماحول جمعہ کو گرم ہوگیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے مجوزہ احتجاج پر اعتراض کیا، جبکہ ترنمول کانگریس کے رہنماؤں نے اس کی حمایت کرتے ہوئے اسے جمہوری حق قرار دیا۔

سی جے پی گزشتہ کئی دنوں سے پیپر لیک ہونے اور تعلیمی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں پر دہلی میں احتجاج کر رہی ہے ۔ تنظیم پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہی ہے۔ اس تحریک کو سماجی کارکن سونم وانگچک کی بھی حمایت حاصل ہے۔ دہلی کے جنتر منتر پر مسلسل دھرنا، احتجاج اور بھوک ہڑتال جاری ہے، جہاں متعدد فنکار اور اپوزیشن جماعتوں کے نمائندے بھی تحریک کی حمایت میں شامل ہو رہے ہیں۔ تاہم حکومت اور مظاہرین کے درمیان مذاکرات ابھی تک کسی ٹھوس نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔

اسی طرح، سی جے پی نے جمعہ کو کولکاتا میں احتجاجی مارچ کا اعلان کیا ہے۔ تنظیم سے وابستہ ہونے کا دعویٰ کرنے والے دیدیپیہ گنگولی نے کہا کہ انہوں نے کولکاتا پولیس کو خطوط اور متعدد ای- میل بھیجے ہیں جس میں 24 جولائی کو ریلی نکالنے کی اجازت طلب کی گئی ہے، لیکن انہیں باضابطہ جواب نہیں ملا ہے۔

مجوزہ مارچ کالج اسٹریٹ سے رانی راسمنی ایونیو تک نکالا جانا ہے۔ منتظمین کے مطابق تقریباً 1500 افراد کی شرکت متوقع ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر اجازت دی گئی تو مارچ مکمل طور پر پرامن طریقے سے کیا جائے گا۔

دریں اثنا، ترنمول کانگریس کے بیلیا گھاٹہ کے ایم ایل اے کنال گھوش نے احتجاج کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کولکاتا پولیس کو ریلی کی اجازت دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ طلبا کے مستقبل اور تعلیمی نظام سے متعلق ایک اہم مسئلہ ہے۔ جب ملک کے دیگر حصوں، بالخصوص دہلی میں اس معاملے پر احتجاج ہو رہا ہے تو کولکاتا میں اجازت دینے سے انکار کا کوئی جواز نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج جمہوری حق ہے، اسے روکا نہیں جانا چاہیے۔

دوسری جانب بی جے پی نے مجوزہ مارچ پر اعتراض کیا ہے۔ دریں اثنا، مغربی بنگال کے وزیر اعلی شبھیندو ادھیکاری نے کہا کہ امن و امان پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور کسی بھی حالت میں بدامنی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔فی الحال کولکاتا پولیس کی جانب سے ریلی کے حوالے سے کوئی باضابطہ فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ سب کی نظریں انتظامیہ کے اگلے اقدامات پر ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande