
نئی دہلی، 24 جولائی (ہ س)۔ بھارت کے عظیم شطرنج کھلاڑی اور پانچ مرتبہ کے عالمی چمپئن وشوناتھن آنند کو عالمی شطرنج فیڈریشن (فیڈے) کا عبوری صدر مقرر کر دیا گیا ہے۔ فیڈے کے صدر آرکادی دوورکووچ کے یورپی یونین (ای یو) کی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہونے کے بعد عہدہ چھوڑنے کے فیصلے کے نتیجے میں آنند نے یہ ذمہ داری سنبھالی ہے۔
فیڈے نے جمعہ کو جاری اپنے بیان میں کہا کہ تنظیم کے آئین کے آرٹیکل 19.2 کے تحت نائب صدر وشوناتھن آنند عبوری صدر کے طور پر خدمات انجام دیں گے۔ یہ انتظام اس وقت تک برقرار رہے گا جب تک دوورکووچ پر سوئٹزرلینڈ اور یورپی یونین کی پابندیاں نافذ رہیں گی۔ فیڈے کے نئے صدر کا انتخاب ستمبر میں کیا جائے گا۔
فیڈے کے مطابق تنظیم نے دوورکووچ کے فیصلے کو قبول کر لیا ہے اور ان کے صدر کے طور پر تمام اختیارات، فرائض اور مراعات معطل کر دی گئی ہیں۔ اس دوران وہ کسی بھی صورت میں فیڈے یا اس کے اثاثوں کے انتظام و انصرام یا کنٹرول میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔
یورپی یونین نے روس-یوکرین جنگ سے متعلق اپنے 21ویں پابندیوں کے پیکیج کے تحت آرکادی دوورکووچ سمیت 48 افراد اور 170 اداروں کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ اسے گزشتہ چار برسوں کے دوران یورپی یونین کا سب سے بڑا پابندیوں کا پیکیج قرار دیا جا رہا ہے۔
روس کے سابق نائب وزیر اعظم (2012 تا 2018) رہنے والے دوورکووچ نے کہا کہ وہ یورپی یونین کے اس فیصلے کو تمام قانونی ذرائع سے چیلنج کریں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے رضاکارانہ طور پر اپنی ذمہ داریاں معطل کی ہیں تاکہ فیڈے کے روزمرہ کام کاج پر کسی قسم کا منفی اثر نہ پڑے۔
دوورکووچ نے کہا،’مجھے فیڈے کونسل پر مکمل اعتماد ہے۔ مجھے یقین ہے کہ کونسل اور انتظامیہ تمام چیلنجوں کا مقابلہ کرتے ہوئے فیڈے کے ٹورنامنٹس، سماجی پروگراموں اور دیگر سرگرمیوں کو بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رکھیں گے۔‘
وشوناتھن آنند کے عبوری صدر بننے کے بعد فیڈے کو ستمبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات تک ایک تجربہ کار قیادت میسر آ گئی ہے۔ بھارت کے کامیاب ترین شطرنج کھلاڑی آنند پہلے ہی فیڈے کے نائب صدر کی حیثیت سے تنظیم کی انتظامی ذمہ داریاں نبھا رہے تھے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan