افتتاحی تقریب کی جشن کے بعد تمغے کے مشن پر لوٹی ہندوستانی ٹیم، گلاسگو سے احمد آباد 2030 کے لیے بھی سبق
نئی دہلی، 24 جولائی (ہ س)۔ کامن ویلتھ گیمز 2026 کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب میں شاندار انداز میں حصہ لینے کے بمشکل 12 گھنٹے بعد، ہندوستانی دستہ اپنے اصل مشن -تمغے کو حاصل کرنے کے لیے پوری طرح مصروف ہوگئی ہے۔ جمعہ کی شام انڈین اولمپک ایسوسی ایشن (آئی
جسن


نئی دہلی، 24 جولائی (ہ س)۔ کامن ویلتھ گیمز 2026 کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب میں شاندار انداز میں حصہ لینے کے بمشکل 12 گھنٹے بعد، ہندوستانی دستہ اپنے اصل مشن -تمغے کو حاصل کرنے کے لیے پوری طرح مصروف ہوگئی ہے۔

جمعہ کی شام انڈین اولمپک ایسوسی ایشن (آئی او اے) کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق، جمعرات کی رات او وی او ہائیڈرو ایرینا میں منعقدہ افتتاحی تقریب کے بعد، ہندوستانی کھلاڑی، کوچ اور معاون عملہ جمعہ کی صبح دوبارہ مشق، صحت یابی اور حکمت عملی بنانے میں مصروف تھے۔

جب کہ ہندوستان میں لاکھوں کھیلوں کے شائقین دیر رات تک افتتاحی تقریب سے لطف اندوز ہوئے، ہندوستانی کھلاڑیوں کے لیے یہ صرف ایک رسمی وقفہ تھا۔ ان کے لیے اصل کامن ویلتھ گیمز جمعہ کی صبح شروع ہوئے، جب ہوٹلوں، تربیتی مراکز اور بحالی کی سہولیات میں مقابلے کی تیاریوں میں دوبارہ تیزی آئی۔

جشن سے زیادہ تیاری پر زور

جن ہوٹلوں میں ہندوستانی ٹیم قیام پذیر تھی، وہاں صبح سے ہی کھیلوں کا ماحول دیکھا گیا۔ کوچز نے مقابلوں کے پروگرام کو حتمی شکل دی، فزیو تھراپیسٹس نے کھلاڑیوں کے لیے ریکوری سیشنز میں شرکت کی، غذائیت کے ماہرین نے کھلاڑیوں کے لیے انفرادی غذا کے منصوبوں پر کام کیا، جبکہ ٹیم مینیجرز نے ایونٹس کے انتظامات کو حتمی شکل دی۔ پوری ٹیم کی توجہ اب صرف بہتر کارکردگی پر مرکوز ہے۔

گلاسگو ماڈل کھلاڑیوں کے لیے مددگار بنا

گلاسگو کامن ویلتھ گیمز کی سب سے بڑی خصوصیت اس کی کمپیکٹ تنظیم ہے۔ بہت سے حال کے کئی کھیل مقابلوں کے برعکس، یہاں کے زیادہ تر مسابقتی مقامات پہلے سے موجود عالمی معیار کی سہولیات میں منعقد ہو رہے ہیں۔ اس سے کھلاڑیوں کے سفر کے وقت میں نمایاں کمی آئی ہے اور انہیں مشق، آرام اور صحت یابی کے لیے زیادہ وقت مل رہا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ طویل ٹورنامنٹ میں یہ مختصر نظر آنے والا انتظام کھلاڑیوں کی کارکردگی پر بڑا مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔

معاون عملہ کا اہم کردار

ڈاکٹر، فزیو تھراپسٹ، اسٹرینتھ اور کنڈیشنگ کے ماہرین، ٹیم منیجر اور لاجسٹک عملہ بھی ہندوستانی کھلاڑیوں کی کارکردگی کے پیچھے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ پوری ٹیم مسلسل اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ کھلاڑیوں کو مقابلے کے دوران تمام ضروری سہولیات وقت پر ملیں اور ان کی پوری توجہ صرف کھیل پر ہو۔

انڈین اولمپک ایسوسی ایشن بھی مختلف نیشنل اسپورٹس فیڈریشنز، کوچز اور آرگنائزنگ کمیٹی کے ساتھ مسلسل تال میل کر رہی ہے تاکہ کھلاڑیوں کو کسی بھی قسم کی انتظامی یا لاجسٹک پریشانیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

احمد آباد: 2030 کے لیے بھی سبق

گلاسگو ایونٹ کو ہندوستان کے لیے بھی اہم سمجھا جارہاہے، کیونکہ 2030 کے کامن ویلتھ گیمز کی میزبانی ہندوستان کے احمد آباد میں کرنے کی تجویز ہے۔ موجودہ عالمی معیار کے اسٹیڈیموں کا استعمال، نقل و حمل کے بہتر انتظامات اور کھلاڑیوں پر مرکوز منصوبہ بندی مستقبل کے مقابلوں میں ہندوستان کے لیے مفید تجربات ثابت ہو سکتے ہیں۔

افتتاحی تقریب ہندوستانی دستے کے لیے ایک قابل فخر لمحہ تھا، لیکن اب پوری ٹیم کا صرف ایک ہی مقصد ہے-گلاسگو میں شاندار کارکردگی کے ساتھ زیادہ سے زیادہ تمغے جیتنا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande