
نئی دہلی، 24 جولائی (ہ س)۔ کانگریس پارلیمانی پارٹی کی چیئرپرسن سونیا گاندھی نے مرکزی حکومت پر ملک کے تعلیمی نظام کو منظم طریقے سے کمزور کرنے، عوامی تعلیم کو پس پشت ڈالنے، امتحانی نظام کو بدعنوانی اور افراتفری کا شکار بنانے اور طلبہ کے پرامن احتجاج کو زبردستی دبانے کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 12 سالوں میں 152 سوالیہ پرچوں کے لیک ہونے، تعلیم کی بڑھتی ہوئی نجکاری، نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور حکومت کی جانب سے احتساب سے مسلسل گریز نے ملک کے طلباءکو سڑکوں پر آنے پر مجبور کر دیا ہے۔ طلباءکے جائز مطالبات کا جواب بات چیت کے ذریعے نہیں بلکہ لاٹھی چارج، آنسو گیس اور جبر کے ذریعے دیا گیا جو کہ جمہوریت کے لیے انتہائی تشویشناک ہے۔
جمعہ کے روز ایک انگریزی روزنامے میں شائع ہونے والے اپنے مضمون تعلیمی نظام کا خاتمہ اور نوجوان ہندوستان کا المیہ میں سونیا گاندھی نے کہا کہ پچھلے کچھ ہفتوں سے ملک بھر میں طلباءسوالیہ پرچہ لیک ہونے اور تعلیمی نظام میں گراوٹ کے خلاف پرامن احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کے مطالبات محض احتساب اور تعلیمی اصلاحات کا نفاذ ہے، لیکن مرکزی حکومت نے ان کی آواز سننے کے بجائے ان کے ساتھ وحشیانہ سلوک کیا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ 20 جولائی کو دہلی پولیس اور سنٹرل آرمڈ پولیس فورسز نے طلباءکے پرامن احتجاج کو زبردستی دبانے کے لیے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔ اس کارروائی میں بڑی تعداد میں طلبہ زخمی ہوئے۔ یہاں تک کہ گھر واپسجارہے طلباءکو بھی نہیں بخشا گیا اور انہیں سر اور کمر پر ڈنڈوں سے مارا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پیلٹ کے استعمال کی اجازت مرکزی وزیر داخلہ کی سطح پر دی گئی ہوگی۔ اس دن کے مناظر نے پوری قوم کے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔
سونیا گاندھی نے کہا کہ مودی حکومت بات چیت پر تشدد کو ترجیح دیتی ہے۔ کسانوں کی تحریک سے لے کر سماجی کارکنوں اور اب طلباءتک بھی یہی طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔ حکومت نے مستقبل کے ڈاکٹروں، انجینئروں، اساتذہ، سرکاری ملازمین اور کاروباری افراد کے ساتھ بات چیت کے بجائے ان کے خلاف ریاست کی جابرانہ طاقت کا استعمال کیا ہے، ایسا اقدام جسے نہ تو بھلایا جا سکتا ہے اور نہ ہی معاف کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے ہر احتجاج کو ملک دشمن قرار دینے کی اپنی پرانی حکمت عملی کو طلبہ کی تحریک پر لاگو کرنے کی کوشش کی۔ طالب علموں کے اصل مسائل کا خود جائزہ لینے کے بجائے حکومت نے ان پر سازش اور سیاسی محرکات کا الزام لگانا شروع کر دیا۔
مضمون میں، سونیا گاندھی نے عوامی تعلیم کی کمزوری کو بحران کی بنیادی وجہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت نے اسکولی تعلیم پر کل بجٹ اخراجات کا حصہ 50 فیصد اور اعلیٰ تعلیم پر 23 فیصد کم کیا ہے۔ گزشتہ 12 سالوں میں تقریباً 100,000 سرکاری اسکول بند کیے گئے ہیں، جب کہ 43,000 پرائیویٹ اسکول کھولے گئے ہیں، جن میں سے ایک بڑی تعداد کو راشٹریہ سویم سیوک سنگھ اور اس سے منسلک تنظیمیں چلا رہی ہیں۔ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن نے یونیورسٹی گرانٹس میں کمی کی، انہیں قرضے لینے پر مجبور کیا، سرکاری یونیورسٹیوں کو فیسیں بڑھانے پر مجبور کیا۔
انہوں نے کہا کہ معیاری اور سستی عوامی تعلیم کی کم دستیابی نے خاندانوں پر مالی بوجھ بڑھا دیا ہے۔ ہندوستانی خاندان صرف نیٹ کوچنگ پر جو رقم خرچ کر رہے ہیں وہ مرکزی حکومت کے کل عوامی تعلیمی بجٹ کے تقریباً برابر ہے۔ اس سے غریب اور متوسط گھرانوں پر بہت زیادہ دباو پڑا ہے اور طلباءپر کامیابی کے لئے ناقابل برداشت ذہنی بوجھ بڑھ گیا ہے۔
سونیا گاندھی نے امتحانی نظام کو بھی سنگین بحران قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاستوں اور یونیورسٹیوں کے آزاد امتحانی نظام کو ختم کر دیا گیا ہے اور اس کی جگہ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کے ذریعے ایک انتہائی مرکزی نظام کو نافذ کر دیا گیا ہے۔ این ٹی اے خود وسائل اور عملے کی کمی سے پرائیویٹ کنٹریکٹرز پر انحصار کر رہا ہے۔ سوالیہ پرچہ تیار کرنے والے ماہرین اعلیٰ تعلیم یافتہ نہیں بلکہ سیاسی روابط رکھنے والے عام لوگ ہیں۔ اس کے نتیجے میں گزشتہ 12 سالوں میں ملک بھر میں 152 سوالیہ پرچے لیک ہوئے ہیں، جس میں این ٹی اے کی تشکیل کے بعدکے نو امتحانات بھی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک کے تعلیمی نظام میں کامیابیاں حاصل کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ گریجویٹس کے درمیان بیروزگاری گزشتہ کچھ سالوں سے تقریباً 40 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ معیاری ملازمتوں کا فقدان، یونیورسٹی کے وائس چانسلرز اور فیکلٹی کی سیاسیبنیاد پر کی گئی تقرری اور نصاب کی بروقت جدید کاری کا فقدان طلباءکو عالمی مسابقت اور مصنوعی ذہانت پر مبنی نئی معیشت کے لیے رکاوٹ کا سبب بن رہاہے۔
سونیا گاندھی نے قومی تعلیمی پالیسی 2020 پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اسے پارلیمنٹ میں وسیع بحث اور اتفاق رائے کے بغیر نافذ کیا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ این ٹی اے کو پارلیمنٹ کے سامنے جوابدہ بنانے کے لیے کوئی انتظامات نہیں کیے گئے۔ انہوں نے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان پر پارلیمانی اسٹینڈنگ کمیٹی کی سفارشات کو عوامی طور پر نظر انداز کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ اس طرح کی سنگین ناکامیوں کے باوجود ان کا عہدے پر برقرار رہنا عوامی غصے میں مزیداضافہ کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج کی طلبہ تحریک ملک کے بگڑتے ہوئے تعلیمی نظام، بڑھتی ہوئی کرپشن، بے روزگاری اور احتساب سے بچنے کے حکومتی رجحان کا فطری نتیجہ ہے۔ حکومت نے نہ صرف ملک کے تعلیمی نظام کو کمزور کیا ہے بلکہ طاقت کے گھمنڈ اور بے حسی کو بھی اپنا طریقہ کار بنا رکھا ہے۔ ملک کے طلباءنے حکومت کے دعووں کی حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے اور ان کے ساتھ کھڑا ہونا ملک کی اخلاقی، سیاسی اور آئینی ذمہ داری ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی