چارمینار پر ایس آئی او کا احتجاج، وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ
حیدرآباد ،24 جولائی (ہ س)۔ ملک بھر میں نیٹ یوجی 2026 کے مبینہ پیپر لیک معاملے پر احتجاج کا سلسلہ شدت اختیار کرتاجارہا ہے۔ مختلف طلبہ تنظیموں کے بعد اب اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا (ایس آئی او) نے بھی اس معاملے پراحتجاج کرتے ہوئے شفاف تحقیقات
چارمینار پر ایس آئی او کا احتجاج، وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ


حیدرآباد ،24 جولائی (ہ س)۔ ملک بھر میں نیٹ یوجی 2026 کے مبینہ پیپر لیک معاملے پر احتجاج کا سلسلہ شدت اختیار کرتاجارہا ہے۔ مختلف طلبہ تنظیموں کے بعد اب اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا (ایس آئی او) نے بھی اس معاملے پراحتجاج کرتے ہوئے شفاف تحقیقات اورذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیاہے۔ آج حیدرآباد کے تاریخی چارمینار کے قریب ایس آئی اوکے کارکنوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرزاٹھا رکھے تھے، جن پر امتحانی نظام میں شفافیت، طلبہ کے ساتھ انصاف اور تعلیم کے تحفظ سے متعلق نعرے درج تھے۔ احتجاج کے دوران مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ نیٹ یوجی 2026 کے مبینہ پیپر لیک کی آزادانہ،غیرجانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں تاکہ حقیقت عوام کے سامنے آسکے اور طلبہ کا اعتماد بحال ہو۔ ایس آئی او کے ذمہ داران کا کہنا تھا کہ پیپر لیک کے واقعے نے لاکھوں طلبہ اوران کے والدین کو شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا کردیا ہے۔ان کاکہنا تھاکہ برسوں کی محنت کے بعد امتحان دینے والے طلبہ کے مستقبل کواس طرح کی بے ضابطگیوں سے متاثر نہیں ہونے دیاجاسکتا۔ مظاہرین نے مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے فوری استعفیٰ دینے کا مطالبہ بھی کیا۔ ان کاکہنا تھا کہ جب تک اس معاملے کی مکمل تحقیقات نہیں ہوتیں اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی نہیں کی جاتی، تب تک امتحانی نظام پرعوام کا اعتماد بحال نہیں ہو سکتا۔ ایس آئی او نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پیپر لیک میں ملوث تمام افراد کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے، امتحانی نظام کو مزید شفاف بنایا جائے اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مضبوط اورمؤثرانتظامات کیے جائیں۔ واضح رہے کہ نیٹیوجی 2026 کے مبینہ پیپر لیک معاملے پر دہلی سمیت ملک کے مختلف شہروں میں مسلسل احتجاج جاری ہے۔ مختلف طلبہ تنظیمیں، سماجی تنظیمیں اور سیاسی جماعتیں اس معاملے پر مرکزی حکومت سے جواب طلب کر رہی ہیں، جبکہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ بھی زور پکڑتا جا رہا ہے۔

۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande