
نئی دہلی، 24 جولائی (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے 20جولائی کو پارلیمنٹ مارچ کے دوران پولیس کی مبینہ زیادتیوںکے خلاف ایک عرضی پر سماعت کرنے پر اپنی رضامندی دی ہے۔ آج صبح چیف جسٹس نے اس بات کی مذمت کی تھی کہ انہوں نے جنتر منتر احتجاج کے دوران پولیس کی زیادتیوں کا الزام لگانے والی درخواست کی سماعت سے انکار کر دیا تھا۔
چیف جسٹس کی سربراہی والی بنچ کے سامنے آج اس معاملے کا تذکرہ کرتے ہوئے سینئر وکیل گوپال شنکر نارائنن نے کہا کہ عرضی داخل کی جا چکی ہے اور اس معاملے میں ڈائری نمبر حاصل ہو چکا ہے۔ اس کے بعد عدالت نے 27 جولائی کو اس معاملے کی سماعت کا حکم دیا۔
قابل ذکر ہے کہ کاکروچ جنتا پارٹی پیپر لیک معاملے میں مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے 20 جون سے جنتر منتر پر احتجاج کر رہی ہے۔ اس احتجاج کے تحت سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔ تقریباً 20 دن کے انشن کے بعد انہیں جنتر منتر سے صفدر جنگ اسپتال لے جایا گیا۔
مظاہرین نے 20 جولائی کو پارلیمنٹ کی طرف مارچ کیاتھا۔ اس دوران دارالحکومت دہلی میں کئی مقامات پر مظاہرین اور دہلی پولیس کے درمیان پرتشدد جھڑپیں ہوئیں۔
درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ مظاہرے کے دوران کئی مقامات پر مظاہرین کے خلاف پولیس نے بربریت کی۔ دہلی پولیس نے کئی مقامات پر طلبا پر لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔ اس معاملے میں کناٹ پلیس پولیس اسٹیشن، پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن اور دیگر تھانوں میں ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد