
نئی دہلی، 24 جولائی (ہ س):۔
نیٹ (این ای ای ٹی) پیپر لیک جیسے مقدمات کی جلد سماعت کے لیے دہلی کے راؤز ایونیو کورٹ میں ایک فاسٹ ٹریک کورٹ قائم کی گئی ہے۔
دہلی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے نے جج انو گروور بلیگا کو اس فاسٹ ٹریک کورٹ کا جج مقرر کیا ہے۔ اس حوالے سے نوٹیفکیشن دہلی ہائی کورٹ کے رجسٹرار جنرل ارون بھاردواج کے دستخط سے جاری کیا گیا۔یہ فاسٹ ٹریک کورٹ فوری طور پر موثر ہو گئی ہے اور آج سے اپنا کام شروع کر دیا ہے۔ یہ عدالت عوامی امتحانات میں ہونے والے جرائم سے متعلق مقدمات کی سماعت کرے گی اور پبلک ایگزامینیشن (پریوینشن آف اَن فیئر مینز) ایکٹ کے تحت درج مقدمات کی نگرانی کرے گی۔واضح رہے کہ جنتر منتر پر جاری احتجاجی مظاہروں کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے پیپر لیک کے مقدمات کی جلد سماعت کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کی بات کہی تھی۔ راو¿ز ایونیو کورٹ میں اس عدالت کے قیام کو اسی فیصلے کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے۔نیٹ پیپر لیک کیس میں اب تک سی بی آئی 13 ملزموں کو گرفتار کر چکی ہے۔ 3 مئی کو منعقد ہونے والے نیٹ امتحان کا پرچہ لیک ہونے کے الزامات کے بعد امتحان منسوخ کر دیا گیا تھا، جس کے بعد 21 جون کو دوبارہ امتحان منعقد کیا گیا۔ مرکزی حکومت نے اس معاملے کی تحقیقات سی بی آئی کے سپرد کی تھیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ