
نئی دہلی، 24 جولائی ( ہ س):۔
دہلی کے راو¿ز ایونیو سیشنز کورٹ نے 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات کے دوران پانچ مسلم نوجوانوں کو قومی ترانہ گانے پر مجبور کرنے اور ان کی مبینہ پٹائی کے معاملے میں دو ملزم پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمے کی سماعت ملتوی کر دی ہے۔
اسپیشل جج گورو راو¿ نے چارج شیٹ سے متعلق دستاویزات کی تصدیق کے لیے آئندہ سماعت 17 اگست کو مقرر کی ہے۔
یہ مقدمہ 14 مارچ کو مجسٹریٹ کورٹ سے سیشنز کورٹ منتقل کیا گیا تھا۔ مجسٹریٹ کورٹ نے دونوں ملزم پولیس اہلکاروں کو 50-50 ہزار روپے کے ضمانتی مچلکوں پر ضمانت دی تھی۔ عدالت نے کہا تھا کہ مقدمے میں عائد دفعات کے مطابق اس کی سماعت کا اختیار سیشنز کورٹ کو حاصل ہے، اس لیے مقدمہ منتقل کیا گیا۔ عدالت نے دونوں ملزمین اور متاثرہ فریق کے وکیل کو چارج شیٹ کی نقول فراہم کرنے کا بھی حکم دیا تھا۔
4 فروری کو عدالت نے سی بی آئی کی جانب سے داخل کردہ چارج شیٹ کا نوٹس لیتے ہوئے ہیڈ کانسٹیبل رویندر کمار اور کانسٹیبل پون یادو کو طلب کیا تھا۔ سی بی آئی نے دونوں اہلکاروں کے خلاف بھارتی تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعات 323، 325، 304(2) اور 34 کے تحت چارج شیٹ داخل کی ہے۔ اس واقعے میں فیضان نامی نوجوان کی موت ہوگئی تھی، تاہم چارج شیٹ میں قتل کی دفعہ شامل نہیں کی گئی۔
سی بی آئی نے جنوری میں اس معاملے کی چارج شیٹ داخل کی تھی۔ یاد رہے کہ فیضان کی والدہ کی درخواست پر دہلی ہائی کورٹ نے 23 جولائی 2024 کو اس معاملے کی سی بی آئی جانچ کا حکم دیا تھا۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا تھا جب سوشل میڈیا پر جن گن من نامی ایک ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں پانچ مسلم نوجوان زمین پر بے بس حالت میں لیٹے ہوئے دکھائی دیتے ہیں جبکہ پولیس اہلکار انہیں گھیر کر قومی ترانہ گانے پر مجبور کرتے اور مبینہ طور پر تشدد کرتے نظر آتے ہیں۔
فیضان کو 24 فروری 2020 کو پولیس نے گرفتار کیا تھا اور 25 فروری کو انتہائی نازک حالت میں رہا کیا گیا۔ بعد ازاں اسے ایل این جے پی اسپتال میں داخل کرایا گیا، جہاں 26 فروری 2020 کو اس کا انتقال ہو گیا۔
فیضان کی والدہ نے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ 25 اور 26 فروری 2020 کی درمیانی شب فیضان نے انہیں بتایا تھا کہ پولیس نے اس پر تشدد کیا اور بری طرح مارا پیٹا۔ درخواست کے مطابق اسے جیوتی نگر پولیس اسٹیشن میں غیر قانونی حراست میں رکھا گیا اور علاج کی سہولت بھی فراہم نہیں کی گئی۔ جب اس کی حالت بگڑ گئی اور پولیس کو خدشہ ہوا کہ وہ زندہ نہیں بچے گا تو اسے رہا کر دیا گیا۔ درخواست میں یہ بھی الزام لگایا گیا کہ قتل کا مقدمہ درج ہونے کے باوجود تفتیش کے دوران پولیس اہلکاروں کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ