
نئی دہلی، 24 جولائی (ہ س):۔
دہلی کی پٹیالہ ہاو¿س کورٹ نے پارلیمنٹ کی سکیورٹی میں نقب زنی کے مقدمے میں تین ملزموں کی عدالتی تحویل میں 21 اگست تک توسیع کر دی ہے۔
ایڈیشنل سیشنز جج امت بنسل نے یہ حکم جاری کیا۔ مقدمے کی آئندہ سماعت بھی 21 اگست کو ہوگی۔
اس مقدمے کے ملزم ساگر شرما کو عدالت نے 17 جولائی کو اپنے والد کی وفات کے بعد آخری رسومات میں شرکت کے لیے 30 دن کی عبوری ضمانت دی تھی۔22 مئی کو دہلی پولیس نے اس مقدمے میں چوتھی ضمنی چارج شیٹ داخل کی، جو تقریباً 14 ہزار صفحات پر مشتمل ہے۔
13 مارچ کو دہلی ہائی کورٹ نے اس مقدمے کی ملزمہ نیلم آزاد کی ضمانت کی شرائط میں ترمیم کرتے ہوئے اسے اپنے آبائی ضلع جند (ہریانہ) میں رہنے کی اجازت دی تھی۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت دی تھی کہ وہ ہر ماہ کی 15 تاریخ کو متعلقہ تفتیشی افسر کے سامنے حاضر ہو۔
2 جولائی 2025 کو دہلی ہائی کورٹ نے اس مقدمے کے دو ملزمان، نیلم آزاد اور مہیش کماوت، کو ضمانت دی تھی۔
15 جولائی 2024 کو دہلی پولیس نے اس مقدمے میں ضمنی چارج شیٹ داخل کی تھی۔ پولیس نے ملزموں کے خلاف بھارتی تعزیرات ہند کی دفعات 186، 353، 153، 452، 201، 34، 120 بی اور یو اے پی اے کی دفعات 13، 16 اور 18 کے تحت مقدمہ درج کیا۔
پہلی چارج شیٹ 7 جون 2024 کو داخل کی گئی تھی، جو تقریباً ایک ہزار صفحات پر مشتمل تھی۔ یو اے پی اے کے تحت جن ملزموں کے خلاف چارج شیٹ داخل کی گئی، ان میں منورنجن ڈی، للت جھا، امول شندے، مہیش کماوت، ساگر شرما اور نیلم آزاد شامل ہیں۔
یہ واقعہ 13 دسمبر 2023 کو پیش آیا تھا، جب پارلیمنٹ کی وزیٹر گیلری سے دو ملزمان ایوان کے اندر کود گئے۔ ان میں سے ایک نے اپنے جوتے سے دھواں چھوڑنے والا آلہ نکالا، جس سے ایوان میں افراتفری مچ گئی۔ کچھ ارکانِ پارلیمنٹ نے دونوں نوجوانوں کو پکڑ لیا اور ان کی پٹائی بھی کی، بعد ازاں پارلیمنٹ کے سکیورٹی اہلکاروں نے انہیں اپنی تحویل میں لے لیا۔ اسی دوران پارلیمنٹ کے باہر نعرے بازی کرنے والے دو افراد کو بھی گرفتار کیا گیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ