قومی گیت کو قومی ترانے کے مساوی درجہ دینے والا بل راجیہ سبھا میں پیش ، پارلیمنٹ کے دونوں ایوان پیر تک ملتوی
نئی دہلی، 24 جولائی (ہ س)۔ مرکزی وزیر مملکت برائے امور داخلہ نتیانند رائے نے جمعہ کو راجیہ سبھا میں ایک بل پیش کیا جس میں قومی گیت وندے ماترم کو قومی ترانے کے مساوی درجہ دیا گیا۔ رائے نے ایوان میں الزام لگایا کہ اپوزیشن بل کے تعلق سے عوام کو گم
قومی گیت کو قومی ترانے کے مساوی درجہ دینے والا بل راجیہ سبھا میں پیش ، پارلیمنٹ کے دونوں ایوان پیر تک ملتوی


نئی دہلی، 24 جولائی (ہ س)۔

مرکزی وزیر مملکت برائے امور داخلہ نتیانند رائے نے جمعہ کو راجیہ سبھا میں ایک بل پیش کیا جس میں قومی گیت وندے ماترم کو قومی ترانے کے مساوی درجہ دیا گیا۔ رائے نے ایوان میں الزام لگایا کہ اپوزیشن بل کے تعلق سے عوام کو گمراہ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 24 جنوری 1950 کو ڈاکٹر راجندر پرساد نے کہا تھا کہ قومی گیت ’وندے ماترم‘ کو بھی احترام ملے گا۔ قومی گیت اور قومی ترانہ دونوں کا یکساں احترام کیا جانا چاہیے۔

اپوزیشن کے ہنگامے کی وجہ سے جمعہ کو لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی کارروائی بھی متاثر ہوئی۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں کارروائی کے آغاز پر کارگل دیوس (26 جولائی) پر شہید فوجیوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ اس کے بعد لوک سبھا کی کارروائی پہلے دوپہر 12 بجے تک اور بعد میں پیر تک ملتوی کر دی گئی۔ اس دوران راجیہ سبھا کی کارروائی پہلے دوپہر 12 بجے تک، پھر دوپہر 2 بجے تک اور پھر پیر تک ملتوی کر دی گئی۔

جب راجیہ سبھا کی کارروائی دوپہر 2 بجے دوبارہ شروع ہوئی، نتیا نند رائے نے قومی وقار کی توہین کی روک تھام کے ایکٹ 1971 میں ترمیم کے لیے ایک بل پیش کیا۔ بل پیش کئے جانے کاسی پی آئی کے رہنما سندوش کمار پی اور سی پی آئی (ایم) کے رہنما جان برٹاس نے مخالفت کی۔

برٹاس نے دلیل دی کہ پارلیمنٹ عام قانون سازی کر کے آئین کی بنیادی دفعات کو تبدیل نہیں کر سکتی۔ آئین ساز اسمبلی نے تقریباً تین سال کے گہرے غور و خوض کے بعد جان بوجھ کر قومی ترانے اور قومی گیت کو مساوی آئینی درجہ نہیں دیا۔ اگر آئین سازوںکا ایسا ارادہ ہوتا تو وہ اسے واضح طور پر بیان کر دیتے۔ انہوں نے دلیل دی کہ قانون سازی کے ذریعے حب الوطنی اور قوم پرستی کو پروان نہیں چڑھایا جا سکتا۔ ایسا لگتا ہے کہ اس بل کا مقصد معاشرے کو پولرائز کرنا ہے۔

سندوش کمار نے دلیل دی کہ ہندوستانیوں کو تقسیم نہیں کرنا چاہیے۔ ہندوستان کی تحریک آزادی کے قائدین بشمول رابندر ناتھ ٹیگور نے اس بات کو سمجھا۔ یہی وجہ ہے کہ قومی ترانے کی صرف دو ہی بند کو شامل کیا گیا ۔ انہوں نے اس بل کی مخالفت کرتے ہوئے دلیل دی کہ یہ رابندر ناتھ ٹیگور اور بنکم چندر چٹوپادھیائے کے درمیان مصنوعی تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اس دوران لوک سبھا میں پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے ایک بار پھر اپوزیشن پر زور دیا کہ وہ طلبہ کے مسئلہ پر بحث کریں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے قوم کو یقین دلایا ہے، اور سماجی کارکن (سونم وانگچک) نے بھی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کے بعد بات چیت کے لیے بلایا ہے۔ انہوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی سے اپیل کی کہ وہ اپنی پارٹی کے ساتھیوں کے ساتھ اس مسئلہ کو حل کریں۔

اس سے قبل صبح 26 جولائی کو اتوار ہونے کی وجہ سے کارگل کے شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ لوک سبھا اسپیکر نے کہا کہ آج کارگل وجے دیوس کی 27 ویں سالگرہ ہے۔ یہ دن ہماری ہندوستانی مسلح افواج کی بے مثال بہادری اور عظیم قربانی کی علامت ہے۔ یہ ایوان ہندوستانی مسلح افواج کے بہادر سپاہیوں کو خراج عقیدت پیش کرتا ہے جنہوں نے انتہائی دشوار گزار پہاڑی خطوں، شدید حالات اور نامساعد موسموں کے باوجود بے مثال ہمت اور غیر متزلزل عزم کا مظاہرہ کیا اور ملک کی سالمیت اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے اعلیٰ ترین قربانیاں دیں۔ اس کے ساتھ ہی راجیہ سبھا میں بھی کارگل کے شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande