
ممبئی میں طالبہ تحریک کے دوران مظاہرہ کرنے والی رِہیا آہیر نے حکومت سے وعدوں پر عملی عمل درآمد کا مطالبہ کیاممبئی، 24 جولائی (ہ س)۔ امتحانی پرچہ لیک کے معاملات کے خلاف سخت کارروائی کے مرکزی حکومت کے اعلان کا ممبئی کی ماڈل اور طالبہ تحریک کے دوران قومی سطح پر توجہ حاصل کرنے والی رِہیا آہیر نے خیر مقدم کیا ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ اس اقدام کی حقیقی کامیابی کا انحصار صرف اعلانات پر نہیں بلکہ وعدوں پر عملی عمل درآمد پر ہوگا۔حالیہ طلبہ تحریک کے دوران ممبئی میں پولیس وین کے سامنے کھڑی ہونے کی وجہ سے ملک بھر میں موضوع بحث بنی رِہیا آہیر نے وزیر اعظم نریندر مودی کے مبینہ نیٹ پرچہ لیک معاملے پر جاری ویڈیو پیغام پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نے جن مسائل کا ذکر کیا، وہی نکات طلبہ گزشتہ کئی دنوں سے اپنے احتجاج کے ذریعے اٹھا رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ان مطالبات کا اعتراف ایک مثبت پیش رفت ہے، لیکن طلبہ کا مکمل اعتماد اسی وقت بحال ہوگا جب ان اعلانات پر عملی اقدامات کیے جائیں گے۔انہوں نے گزشتہ واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2024 کے امتحانی پرچہ لیک کیس کے مبینہ سرغنہ کو ضمانت مل گئی تھی اور بعد میں اس کے خلاف الزامات بھی ختم ہو گئے تھے۔ رِہیا آہیر نے امید ظاہر کی کہ موجودہ معاملے میں ایسا نہیں ہوگا اور اس بار ذمہ دار افراد کے خلاف مؤثر اور سخت کارروائی کی جائے گی۔ اپنے خطاب میں وزیر اعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچہ لیک کو ملک بھر کے لاکھوں طلبہ اور ان کے خاندانوں کے لیے ایک سنگین مسئلہ قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ موجودہ معاملے میں مبینہ طور پر ملوث افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور حکومت نے یہ بھی یقینی بنایا ہے کہ اس تنازع کے باعث طلبہ کا ایک تعلیمی سال ضائع نہ ہو۔وزیر اعظم نے یہ بھی اعلان کیا تھا کہ مرکزی حکومت امتحانی پرچہ لیک کے مقدمات کی فوری سماعت کے لیے ایک خصوصی فاسٹ ٹریک عدالتی نظام قائم کرنے سے متعلق قانون سازی کی تیاری کر رہی ہے۔ ان کے مطابق اس تجویز کو پہلے مرکزی کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا، جس کے بعد پارلیمنٹ کے جاری مانسون اجلاس میں بل پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد صرف امتحانات کا انعقاد اور نتائج کا بروقت اعلان کرنا نہیں بلکہ امتحانی نظام کو اس انداز میں مضبوط بنانا ہے کہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔رِہیا آہیر اس وقت قومی سطح پر معروف ہوئیں جب 22 جولائی کو ممبئی میں طلبہ احتجاج کے دوران ان کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی۔ ویڈیو میں وہ شیواجی پارک کے قریب حراست میں لیے گئے مظاہرین کو لے جانے والی پولیس وین کے سامنے کھڑی نظر آئیں، جس پر ملک بھر میں مختلف ردعمل سامنے آیا۔ اس دن کے واقعے کو یاد کرتے ہوئے رِہیا آہیر نے بتایا کہ وہ شام تقریباً ساڑھے چار بجے شیواجی پارک کی جانب جا رہی تھیں، جب انہوں نے ایک پولیس گاڑی کے اندر سے احتجاجی نعرے سنے۔ ان کے مطابق انہیں محسوس ہوا کہ حراست میں لیے گئے طلبہ کو بلاجواز لے جایا جا رہا ہے، جس پر وہ دوڑ کر پولیس وین کے سامنے کھڑی ہو گئیں اور مظاہرین کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس دوران ان کی وہاں موجود پولیس اہلکاروں سے تلخ گفتگو بھی ہوئی۔ ان کے مطابق پولیس نے انہیں بتایا کہ کچھ فاصلے پر جانے کے بعد حراست میں لیے گئے طلبہ کو چھوڑ دیا جائے گا، لیکن انہوں نے سوال کیا کہ اگر رہائی دینی ہی تھی تو انہیں فوراً کیوں نہیں چھوڑا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سوال کا انہیں کوئی اطمینان بخش جواب نہیں ملا۔رِہیا آہیر صرف حالیہ طلبہ تحریک ہی کی وجہ سے نہیں بلکہ اداکارہ، ماڈل، کاروباری شخصیت اور میزبان کے طور پر بھی اپنی شناخت رکھتی ہیں۔ وہ سوشل میڈیا پر رِہیا ایکوسیا کے نام سے معروف ہیں اور رِہیاسات کے نام سے ایک لگژری فیشن برانڈ بھی چلاتی ہیں، جو ہاتھ سے تیار کردہ اعلیٰ معیار کے ملبوسات کے لیے جانا جاتا ہے۔ وہ فروری 2025 میں جاری ہونے والے میوزک ویڈیو دلبرہ سمیت مختلف منصوبوں میں بھی کام کر چکی ہیں اور وقتاً فوقتاً سماجی اور عوامی مسائل پر بھی اپنی رائے کا اظہار کرتی رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ طلبہ تحریک نے امتحانی اصلاحات کے مسئلے کو قومی سطح پر نمایاں کر دیا ہے اور طلبہ مسلسل امتحانی نظام میں شفافیت، پرچہ لیک کی روک تھام کے لیے مضبوط حفاظتی اقدامات اور تعلیمی نظام میں جوابدہی بڑھانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ رِہیا آہیر نے کہا کہ حکومت کے حالیہ اعلانات سے طلبہ میں امید ضرور پیدا ہوئی ہے، لیکن ان وعدوں کی اصل کامیابی کا فیصلہ صرف اس وقت ہوگا جب ان پر مکمل اور مؤثر طریقے سے عمل درآمد کیا جائے گا۔ہندوستھان سماچار--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے