طلبا کے مستقبل کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ناقابل قبول : اجیت شرما
بھاگلپور، 24 جولائی (ہ س)۔ نیٹ امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں اور پیپر لیک ہونے پر ملک گیر غم و غصے کے درمیان بھاگلپور شہر کے سابق ایم ایل اے اجیت شرما نے جمعہ کے روزمرکزی حکومت پر سخت حملہ کیا۔انہوں نے امتحانات میں دھاندلی کے خلاف احتجاج کرنے وال
طلبا کے مستقبل کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ناقابل قبول  : اجیت شرما


بھاگلپور، 24 جولائی (ہ س)۔ نیٹ امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں اور پیپر لیک ہونے پر ملک گیر غم و غصے کے درمیان بھاگلپور شہر کے سابق ایم ایل اے اجیت شرما نے جمعہ کے روزمرکزی حکومت پر سخت حملہ کیا۔انہوں نے امتحانات میں دھاندلی کے خلاف احتجاج کرنے والے طلباء کے خلاف پولیس کارروائی کی شدید مذمت کی۔ سابق ایم ایل اے اجیت شرما نے کہا کہ ملک بھر میں طلباء اپنے مستقبل اور حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ امتحان میں دھاندلی کے خلاف پرامن احتجاج کر رہے ہیں۔ لیکن ان کے جائز مطالبات کو سننے اور مسئلہ حل کرنے کے بجائے مرکزی حکومت ان کے خلاف لاٹھی چارج کا سہارا لے رہی ہے۔

انہوں نے اس جابرانہ پالیسی کو انتہائی افسوس ناک قرار دیا۔ حکومت پر حملہ کرتے ہوئے اجیت شرما نے کہا کہ جب اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی اپنی آواز بلند کرنے اور طلباء کی حمایت کے لیے سڑکوں پر نکلے تو پولیس نے انہیں بھی حراست میں لے لیا۔ حکومت کی کارروائی پر تنقید کرتے ہوئے سابق ایم ایل اے نے کہا کہ جمہوریت میں پرامن اظہار رائے اور احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے۔ اس طرح اپوزیشن کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔ کانگریس لیڈر نے وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے کردار پر بھی سنگین سوالات اٹھائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پیپر لیک جیسا حساس اور سنگین معاملہ سامنے آنے کے باوجود مرکزی وزیر تعلیم کا استعفیٰ ابھی تک نہیں لیا گیا ہے۔ حکومت اس معاملے پر اپنی ذمہ داری سے بھاگ ر ہی ہے جبکہ ملک کے لاکھوں نوجوانوں کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے، حکومت کو اپنا موقفواضح کرنی چاہیے۔اجیت شرما نے زور دے کر کہا کہ طلباء اس ملک کا مستقبل ہیں۔ ان کے کیریئر اور مستقبل میں کسی قسم کی مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ کانگریس پارٹی طلباء کے مطالبات اور حقوق کی حمایت میں ہمیشہ مضبوطی سے کھڑی رہے گی اور پارلیمنٹ سے لے کر سڑکوں تک نوجوانوں کی آواز کو دبانے کی اجازت نہیں دے گی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan


 rajesh pande