
نئی دہلی، 24 جولائی (ہ س)۔
نیٹ-یو جی پیپر لیک ہونے پر وزیر اعظم نریندر مودی پر دو ماہ تک خاموش رہنے کا الزام لگاتے ہوئے کانگریس جنرل سکریٹری (مواصلات) جے رام رمیش نے کہا کہ بڑے پیمانے پر عوامی غم و غصہ کے بعد آخر کار حکومت کو سوالیہ پرچہ لیک ہونے کی سچائی کو تسلیم کرنا پڑا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے مسلسل اپنے سیاسی مفادات کو طلباء کے مفادات سے بالاتر رکھا، کمزور تحقیقات کیں اور احتساب سے گریز کیا۔ انہوں نے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو ان کے عہدے سے ہٹانے، طلباءکے خلاف تشدد کرنے والوں کے خلاف کارروائی اور طلباء سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔
جے رام رمیش نے جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ وزیر اعظم نے تقریباً دو ماہ کی خاموشی کے بعد سوالیہ پرچہ لیک ہونے کے معاملے کو حل کرنے کے لیے رات گئے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے طویل عرصے سے یہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا کہ نیٹ - یو جی 2026 کا سوالیہ پرچہ لیک ہو ا ہے۔ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے اپنی پریس کانفرنس میں جان بوجھ کر لفظ لیک کا استعمال کرنے سے گریز کیا اور وزارت تعلیم نے بھی باضابطہ طور پر پارلیمانی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے تعلیم کے سامنے کہا کہ کوئی سوالیہ پرچہ لیک نہیں ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شدید عوامی دباو¿ کی وجہ سے بالآخر وزیراعظم سچائی کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوئے لیکن حکومتی رویے نے طلباء کا ان پر سے اعتماد مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ 2024 نیٹ-یو جی امتحان میں کچھ امتحانی مراکز پر مشتبہ طور پر زیادہ تعداد میں ٹاپ کرنے والوں کے سامنے آنے کے باوجود حکومت نے بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کے ثبوت کو دبا دیا۔ بعد میں، حکومت نے تسلیم کیا کہ ہزاری باغ میں ایک منتخب سوالیہ پرچہ لیک ہوا، لیکن ابھی تک مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا گیا۔
جے رام رمیش نے کہا کہ سنجیو مکھیا جن پر پہلے سوالیہ پرچہ لیک ہونے کے ماسٹر مائنڈ کا الزام تھا، اب اسے بے قصور قرار دیا جا رہا ہے۔ سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) نے 2024 کے منسوخ شدہ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن-قومی اہلیتی ٹیسٹ (یو جی سی-این ای ٹی) کیس میں ایک کلوزر رپورٹ داخل کی، جس میں کہا گیا کہ کوئی سوالیہ پرچہ لیک نہیں ہوا تھا، لیکن اس کی وجوہات کا آج تک انکشاف نہیں کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ بحران بھی سی بی آئی کی کمزور تحقیقات اور حکومت کی قیادت کی ناکامی کا نتیجہ ہے۔
جے رام رمیش نے کہا کہ اس پورے معاملے کو حل کرنے کی طرف پہلا قدم یہ ہے کہ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو ان کے عہدے سے ہٹایا جائے، طلباء کے خلاف تشدد کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے اور طلباء سے عام معافی مانگی جائے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ