نیٹ پیپر لیک معاملے میں گرفتار منوج بھگوان راو شرورے کی درخواست ضمانت خارج
نئی دہلی، 24 جولائی (ہ س)۔ راوز ایونیو کورٹ نے نیٹ پیپر لیک معاملے میں گرفتار منوج بھگوان راو شرورے کی درخواست ضمانت خارج کر دی ہے۔ منوج بھگوان راو شرورے، نیٹ پیپر لیک معاملے میں ایک اہم ملزم ہے۔ خصوصی جج اجے گپتا نے ضمانت کی درخواست خارج کرتے ہوئے
ضمانت


نئی دہلی، 24 جولائی (ہ س)۔ راوز ایونیو کورٹ نے نیٹ پیپر لیک معاملے میں گرفتار منوج بھگوان راو شرورے کی درخواست ضمانت خارج کر دی ہے۔ منوج بھگوان راو شرورے، نیٹ پیپر لیک معاملے میں ایک اہم ملزم ہے۔ خصوصی جج اجے گپتا نے ضمانت کی درخواست خارج کرتے ہوئے یہ حکم جاری کیا۔

ضمانت کی سماعت کے دوران سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) نے شرورے کی درخواست ضمانت کی مخالفت کی۔سی بی آئی نے نیٹ پیپر لیک معاملے کے ملزم منوج بھگوان راو شرورے کی ضمانت مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ جرم قوم کے خلاف ہے۔ اس جرم نے ملک کی شبیہ کو داغدار کیا ہے اور لاکھوں طلباءکے مستقبل کو متاثر کیا ہے۔ سی بی آئی کی طرف سے پیش ہوئے ایڈوکیٹ نیتو سنگھ نے کہا کہ پیپر لیک ہونے کی وجہ سے امتحان منسوخ کرنا پڑا۔ کئی طلبہ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کی وجہ سے حکومت کو تقریباً 600 کروڑ روپے کا نقصان بھی اٹھانا پڑا۔ پیپر لیک کے واقعے کے بعد کئی طلبہ نے خودکشی بھی کرلی۔

سماعت کے دوران، شرورے کے وکیل نے دلیل دی کہ درخواست گزار کے خلاف الزامات صرف اور صرف شریک ملزم پرہلاد کلکرنی کے انکشافی بیان پر مبنی ہیں۔ صرف اس بیان کی بنیاد پر ان کے کردار کا تعین نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے دلیل دی کہ شرورے کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے اور شرورے کے فرار ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔

نیٹ پیپر لیک معاملے میں اب تک 13 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ تمام ملزمان عدالتی تحویل میں ہیں۔ ایک سرکاری اہلکار کی شکایت پر 12 مئی کو اس معاملے میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ سی بی آئی نے تعزیرات ہند اور بدعنوانی کی روک تھام ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی ہے۔ سوالیہ پرچہ لیک ہونے کے الزامات کے بعد، 3 مئی کو ہونے والا نیٹ کا امتحان منسوخ کر دیا گیا تھا اور 21 جون کو دوبارہ امتحان لیا گیا ۔ مرکزی حکومت نے اس معاملے کی سی بی آئی جانچ کا حکم دیا تھا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande