ایم پی میں بھوج شالہ تنازعہ پھر گرمایا ، چالیس پیر درگاہ پر جمعہ کی نماز نہیں ہوئی
مسلم فریق بھوج شالہ کے پاس والی جگہ کے لیے بضد، شہر میں 350 سیکورٹی اہلکار تعینات دھار، 24 جولائی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے دھار ضلع ہیڈ کوارٹر میں واقع تاریخی بھوج شالہ-مسجد کمال مولیٰ احاطے کو لے کر جاری تنازعہ ایک بار پھر گرما گیا ہے۔ یہاں جمعہ کے
مالی واڑا میں چالیس پیر درگاہ پر تعینات پولیس اہلکار


مسلم فریق بھوج شالہ کے پاس والی جگہ کے لیے بضد، شہر میں 350 سیکورٹی اہلکار تعینات

دھار، 24 جولائی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے دھار ضلع ہیڈ کوارٹر میں واقع تاریخی بھوج شالہ-مسجد کمال مولیٰ احاطے کو لے کر جاری تنازعہ ایک بار پھر گرما گیا ہے۔ یہاں جمعہ کے روز انتظامیہ کی جانب سے مقرر کردہ مالی واڑا میں چالیس پیر درگاہ کے پاس جمعہ کی نماز ادا نہیں کی گئی۔ مسلم فریق نماز کے لیے بھوج شالہ کے پاس والی جگہ دینے کے مطالبے پر اڑا ہوا ہے۔

سپریم کورٹ نے گزشتہ 14 جولائی کو مسلم فریق کو جمعہ کی نماز کے لیے بھوج شالہ کے پاس جگہ فراہم کرنے کی ہدایت ضلع انتظامیہ کو دی تھی۔ عدالت نے کہا تھا کہ ہر جمعہ کو دوپہر 1 سے 3 بجے کے درمیان نماز کے لیے متبادل جگہ مہیا کرائی جائے۔ اس کے بعد ضلع انتظامیہ نے مالی واڑا گاوں میں چالیس پیر درگاہ کے پاس نماز کی جگہ مقرر کی تھی لیکن مسلم برادری نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

اسی کو لے کر جمعرات کی دیر رات ضلع انتظامیہ اور مسلم برادری کے نمائندوں کے درمیان تقریباً دو گھنٹے تک چلی میٹنگ میں دیگر ممکنہ مقامات کی تجویز رکھی گئی لیکن نماز کی متبادل جگہ کو لے کر اتفاقِ رائے نہیں بن سکا۔ اس کے باعث جمعہ کو انتظامیہ کی جانب سے مقرر کردہ مالی واڑا میں چالیس پیر درگاہ کے پاس جمعہ کی نماز ادا کرنے کے لیے کوئی نہیں پہنچا۔ سیکورٹی کے پیشِ نظر انتظامیہ اور پولیس کی طرف سے موقع پر تمام انتظامات کیے گئے تھے۔

مسلمانوں کا کہنا ہے کہ انہیں ان کے روایتی مقام پر ہی نماز ادا کرنے کی اجازت دی جائے۔ دھار کے صدر عبدالصمد نے کہا کہ انتظامیہ ہائی کورٹ کے حکم کی تعمیل نہیں کر رہی ہے۔ جب بھوج شالہ احاطے میں نماز ہوتی تھی، تب بھی کبھی قانون و انتظام کی صورتِ حال نہیں خراب ہوئی۔ نماز نہیں ہونے کے بعد بھی کوئی تنازعہ نہیں ہوا اس لیے اتنی دور متبادل انتظام کا کوئی جواز نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ چالیس پیر درگاہ کے پاس مقررہ مقام پر نماز نہیں پڑھی جائے گی۔ اس کے بجائے جمعہ کی نماز آس پاس کی مساجد میں ادا کی جائے گی۔

صدر نے پرانے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اس سے پہلے 23 جنوری کو بسنت پنچمی کے موقع پر انتظامیہ نے جس جگہ ڈمی نماز کرائی تھی، وہ دراصل قبرستان کی زمین ہے۔ اس وقت بھی مسلم سماج نے اس پر اعتراض ظاہر کیا تھا کیونکہ قبرستان میں جمعہ کی نماز ادا نہیں کی جاتی۔ یہ موقف بھی سپریم کورٹ کے سامنے مضبوطی سے رکھا گیا تھا۔

وہیں، ہندو فریق کی جانب سے بھوج شالہ مکتی یگیہ سمیتی کے کنوینر گوپال شرما نے کہا کہ انتظامیہ نے مالی واڑا میں نماز کے لیے مناسب جگہ فراہم کی ہے لیکن عبوری حکم کی آڑ میں مسجد فریق جس جگہ پر نماز کا مطالبہ کر رہا ہے، وہ نہ تو جائز ہے اور نہ ہی شہر کے امن و امان کے لحاظ سے مناسب ہے۔

ادھر، جمعہ کی نماز کو لے کر جمعہ کی صبح سے ہی شہر میں اضافی پولیس فورس تعینات کی گئی ہے۔ جاورا اور اندور سے پولیس کی دو خصوصی کمپنیاں بلائی گئی ہیں۔ پورے شہر میں سیکورٹی کے نظام کے لیے 350 پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ شہر کے حساس علاقوں، بھوج شالہ احاطے اور چالیس پیر درگاہ پر پولیس فورس موجود ہے۔ ساتھ ہی شہر میں پولیس کی موبائل گاڑیاں اور دوپہیہ گشتی دستے مسلسل گشت کر رہے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande